کشمیر میں کریک ڈاؤن اور پاکستان کے لیے آنے والی پابندیوں کی گھنٹی

تحریر: خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے زیرِ انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں حالیہ عوامی احتجاج کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے، گرفتاریوں، مبینہ جبری گمشدگیوں، مواصلاتی بندش اور صحافت پر پابندیوں کی اطلاعات نے اس بحران کو ایک ایسے مرحلے پر پہنچا دیا ہے جہاں اب اسلام آباد کے لیے صرف سیاسی اور عوامی ردِعمل کا نہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی جواب دہی اور ممکنہ پابندیوں کا سوال بھی سامنے آ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جولائی میں پاکستان کے زیرِ انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد ختم کرنے اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا تھا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جون میں کریک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ بندش، بڑے پیمانے پر من مانی گرفتاریوں اور مہلک طاقت کے استعمال کی نشاندہی کی۔

یہ صورتِ حال اب محض ایک داخلی سیاسی تنازع نہیں رہی۔ اگست میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ جون 2026 سے پاکستان کے زیرِ انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں احتجاج کے دوران کم از کم 89 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ دی گارڈین نے 9 جون کو کوٹلی میں ایک برطانوی شہری محمد اختر کی ہلاکت اور ایک دوسرے برطانوی شہری کی حراست کی تفصیلات شائع کیں۔ اگرچہ مختلف ذرائع سے ہلاکتوں اور واقعات کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے اور بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کی صورتِ حال اب عالمی ذرائع ابلاغ، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ حاصل کر چکی ہے۔

اسلام آباد کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر ریاستی طاقت کا استعمال اسی انداز میں جاری رہا، شہری ہلاکتوں اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات نہ ہوئیں، لاپتہ افراد کے بارے میں خاندانوں کو معلومات فراہم نہ کی گئیں، گرفتار افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش نہ کیا گیا اور صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ سے روکا جاتا رہا تو آنے والے دنوں میں پاکستان کو صرف عالمی مذمت کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ ذمہ دار افراد کے خلاف مخصوص انسانی حقوق کی پابندیوں کا مطالبہ بھی مضبوط ہو سکتا ہے۔

یہ کوئی خیالی خطرہ نہیں۔ برطانیہ کے پاس پہلے ہی عالمی انسانی حقوق کی پابندیوں کا نظام موجود ہے، جس کے تحت سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ برطانوی نظام میں کسی ریاست کے اندر ایسی سرگرمیاں جو کسی فرد کے حقِ زندگی یا تشدد اور ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے آزاد رہنے کے حق کی سنگین خلاف ورزی بنیں، پابندیوں کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر قابلِ اعتماد شواہد سے کسی مخصوص سرکاری اہلکار، کمانڈر یا دوسرے ذمہ دار شخص کا تعلق ماورائے عدالت قتل، تشدد یا دوسری سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے ثابت ہوتا ہے تو اس شخص کے خلاف کارروائی کا قانونی راستہ موجود ہے۔ برطانیہ کا یہ نظام اثاثے منجمد کرنے، مالی وسائل تک رسائی محدود کرنے اور سفری یا داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ برطانوی حکومت خود اس نظام کو ایسے افراد کو نشانہ بنانے کا ذریعہ قرار دیتی ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہوں، نہ کہ کسی ملک کے عام شہریوں کو سزا دینے کا ذریعہ۔

یورپی یونین کا راستہ بھی کھلا ہے۔ یورپی یونین کے پاس بھی عالمی انسانی حقوق کی پابندیوں کا نظام موجود ہے، جس کے تحت دنیا میں کہیں بھی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یورپی یونین نے واضح طور پر ماورائے عدالت قتل، تشدد، جبری گمشدگیوں اور من مانی گرفتاری یا حراست کو ان سنگین خلاف ورزیوں میں شمار کیا ہے جن کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس نظام کے تحت متعلقہ افراد کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں اور یورپی یونین میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

لہٰذا پاکستان کے لیے اصل خطرہ فوری طور پر یہ نہیں کہ کل پورے ملک پر ایران یا شمالی کوریا طرز کی جامع معاشی پابندیاں عائد ہو جائیں گی۔ زیادہ قابلِ عمل اور زیادہ فوری خطرہ مخصوص افراد اور اداروں کے خلاف ہدفی پابندیوں کا ہے۔ یعنی اگر ثبوت مضبوط ہوئے تو کسی مخصوص فوجی یا سرکاری اہلکار کے بیرونِ ملک اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں، اس کے مالی لین دین پر پابندی لگ سکتی ہے، اسے برطانیہ یا یورپ میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور اس سے وابستہ مخصوص اداروں یا کاروباری مفادات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے موجودہ نظام پہلے ہی اس نوعیت کے اقدامات کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے لیے تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ اس کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے واقعات کی بین الاقوامی دستاویز بندی بڑھ رہی ہے۔ رائٹرز نے اگست میں رپورٹ کیا کہ پاکستان نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے پہلے سے موجود پابندیوں کو مزید وسعت دیتے ہوئے پاکستانی صحافیوں، مقامی معاونین اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مقامی عملے کی نقل و حرکت اور رپورٹنگ کے لیے بھی حکومتی اجازت کے تقاضے نافذ کیے۔ ایسی پابندیاں اگر اس وقت عائد ہوں جب پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں شہری ہلاکتوں اور کریک ڈاؤن کی اطلاعات سامنے آ رہی ہوں تو عالمی سطح پر یہ سوال مزید شدت اختیار کرتا ہے کہ آزاد صحافت اور آزادانہ تحقیقات کو محدود کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ آج کے دور میں کسی بڑے سانحے یا کریک ڈاؤن کا ریکارڈ صرف مقامی اخبارات یا سرکاری فائلوں میں محفوظ نہیں رہتا۔ ایک ویڈیو، ایک تصویر، ایک طبی رپورٹ، ایک عینی شاہد، ایک عدالتی درخواست، ایک خاندان کی گواہی اور ایک معتبر بین الاقوامی رپورٹ مل کر مستقبل میں ایک ایسا قابلِ تصدیق شواہد کا سلسلہ تشکیل دے سکتے ہیں جس کی بنیاد پر کسی فرد کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات جاری رہے تو ہر ہلاکت، ہر گرفتاری، ہر مبینہ گمشدگی اور ہر تشدد کا واقعہ مستقبل کی بین الاقوامی جواب دہی کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہ نہیں کہ وہ دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کرے کہ مسئلہ موجود ہی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا دروازہ کھولے۔ جن شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، گرفتار افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے، لاپتہ افراد کے بارے میں ان کے خاندانوں کو فوری معلومات دی جائیں، صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کی اجازت دی جائے اور شہریوں کے خلاف غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کے استعمال کو روکا جائے۔ یہی اقدامات پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں کے ممکنہ راستے سے دور لے جا سکتے ہیں۔ یا ان متوقع پابندیوں سے بچا سکتے ہیں۔

ورنہ آنے والے دنوں میں معاملہ صرف یہ نہیں رہے گا کہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام خطے میں کس نے کس پر گولی چلائی؟ سوال یہ بھی ہوگا کہ اس گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس کی نگرانی کس نے کی، کس نے اسے روکنے سے انکار کیا، کس نے تحقیقات روکی اور کس نے ذمہ داروں کو تحفظ فراہم کیا؟یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک مقامی انسانی حقوق کا معاملہ بین الاقوامی پابندیوں کے معاملے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ اگر کبھی پابندیاں عائد ہوئیں تو ان کا سب سے مضبوط اخلاقی اور قانونی جواز پاکستانی عوام کو سزا دینا نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کو جواب دہ بنانا ہوگا۔ برطانیہ کا پابندیوں کا نظام بھی اسی تصور پر مبنی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد کو نشانہ بنایا جائے، کسی ملک کی پوری آبادی کو نہیں۔ یوں اگر کشمیری ڈائسپورہ اس طرف چل پڑا تو اس سے نا صرف پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے زمہداران کیفر کردار تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے اپنے صوبوں کے اندر ہونیوالی بربریت کو سامنے لانے کا راستہ بھی کھل جاۓ گا۔

لہٰذا آج اسلام آباد کے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے کہ یا تو طاقت کے ذریعے احتجاج کو دبانے کی پالیسی جاری رکھی جائے اور پھر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ، تحقیقات، سفارتی تنقید اور ممکنہ مخصوص پابندیوں کا سامنا کیا جائے، یا پھر سیاسی مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے، شہریوں کے حقوق تسلیم کیے جائیں، طاقت کے استعمال کی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے۔

جموں و کشمیر کے پہاڑوں میں چلنے والی گولی کی آواز شاید اسلام آباد میں کچھ دیر کے لیے دبائی جا سکتی ہے، مگر جب اس گولی کا نشانہ ایک بے گناہ شہری بنتا ہے تو اس کی گونج لندن، برسلز، جنیوا ، واشنگٹن،ٹورنٹو ،روم ،میلان، برسلونا، برلن ،دی ہیگ،سکاٹ لینڈ،آئرلینڈ، کوپن ہیگن، سٹاک ہوم اور اوسلو تک ایک ہی وقت میں ایک ہی شدت سے سنائی دے رہی ہے۔

اور اگر یہ گونج بین الاقوامی پابندیوں کے دروازے تک پہنچ گئی جو متوقع ہے ، تو پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان پر پابندیاں کیوں لگائی جا رہی ہیں؟ سوال یہ ہوگا کہ اسلام آباد نے وہ راستہ کیوں اختیار کیا جس نے دنیا کو پابندیوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیا؟

اب بھی وقت ہے کہ طاقت کا راستہ چھوڑ کر قانون، مذاکرات، شفاف تحقیقات اور انسانی حقوق کا راستہ اختیار کیا جائے؛ کیونکہ پاکستان کے زیر انتظام متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں انسانی حقوق کا تحفظ صرف کشمیری عوام کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کے اپنے بین الاقوامی مستقبل کا سوال بھی بن چکا ہے۔

٭٭٭

Share this content: