اپنے حصے کا سورج

تحریر: حبیب رحمان

یہ نسل، جسے تم قتل کر رہے ہو، اپنے حصے کا سورج مانگ رہی ہے اور وہ اپنے حصے کا سورج لے کر رہے گی!

ہر عہد اپنی ایک نسل کو جنم دیتا ہے، اور ہر نسل اپنے عہد سے کچھ سوال کرتی ہے۔ کچھ نسلیں حالات کے سامنے خاموش ہو جاتی ہیں، کچھ سمجھوتوں کو اپنا مقدر سمجھ لیتی ہیں، مگر کچھ نسلیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو سوال کرنا سیکھتی ہیں، اپنے حق کو پہچانتی ہیں اور پھر تاریخ کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔

آج کی نسل بھی ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑی ہے۔

اس کے سامنے محرومیاں ہیں، بے یقینی ہے، سیاسی انتشار ہے اور مستقبل کے حوالے سے بے شمار سوالات ہیں۔ مگر اس کے اندر ایک نئی بیداری بھی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ نسل صرف وعدے نہیں چاہتی، صرف نعروں پر یقین نہیں کرتی؛ یہ اپنے مستقبل میں اپنا فعال کردار چاہتی ہے۔

"اپنے حصے کا سورج مانگنے” کا مطلب صرف روشنی کی تمنا کرنا نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے حصے کا حق، اپنی آزادی، اپنی عزت اور اپنے مستقبل کا اختیار مانگ رہا ہے۔ یہ مطالبہ کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی اجتماعی آواز ہے۔

وقت نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ جب نئی نسلیں اپنے سوالوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیتی ہیں، تو پرانے نظام زیادہ دیر تک انہیں نظرانداز نہیں کر سکتے۔ تبدیلی ہمیشہ شور سے نہیں آتی؛ کبھی یہ خاموشی میں جنم لیتی ہے، شعور میں پروان چڑھتی ہے اور پھر ایک دن اجتماعی ارادے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اس لیے اس نسل کو صرف یہ کہہ کر خاموش نہیں کیا جا سکتا کہ "وقت آنے پر سب ٹھیک ہو جائے گا”؛ اسے اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک کرنا ہوگا۔ اسے تعلیم، روزگار، سیاسی آزادی، انسانی وقار اور ایک باعزت مستقبل کا حق دینا ہوگا۔

یہ نسل کسی سے خیرات نہیں مانگ رہی،یہ اپنے حصے کی روشنی مانگ رہی ہے۔

اور تاریخ کا اصول ہے کہ جو نسلیں اپنی روشنی کی تلاش میں نکل پڑیں، انہیں ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں قید نہیں رکھا جا سکتا۔

یہ نسل اپنے حصے کا سورج مانگ رہی ہے اور یقین رکھیے، ایک دن یہ اپنے حصے کا سورج لے کر رہے گی!

٭٭٭

Share this content: