جموں کشمیر کی بدلتی صورتحال اور مشترکہ سیاسی ذمہ داری

تحریر : جبیب رحمان

تمام سیاسی جماعتوں تنظیموں بشمول جموں کشمیر ایکشن کمیٹی کے معزز ساتھیو، آداب!

میں آج یہ آپ سب کی توجہ کے لیے لکھ رہا ہوں، کیونکہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی صورتحال جس تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس نے جہاں کچھ نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں ریاست کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات بھی جنم دیے ہیں۔

پاکستان کی بدلتی ہوئی پالیسیاں اور موجودہ طرزِ عمل اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ عوامی مزاحمت کو مزید جبر کے ذریعے کچل کر ریاست کے اس حصے کو مستقل طور پر پاکستان میں ضم کرنے کی پالیسی اختیار کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف بیانیے تشکیل دیے گئے، سیاسی عمل کو محدود کیا گیا اور طاقت کے ذریعے ایسی حکومت قائم کی گئی جو عوام کی خواہشات، امیدوں اور سیاسی رائے کی حقیقی نمائندگی نہیں کرتی۔

شہری حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی تحریکوں کو مختلف الزامات کے ذریعے دبانے اور سیاسی کارکنوں کو خوف زدہ کرنے کی کوششیں بھی اسی وسیع تر صورتحال کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ریاست جموں کشمیر کے بنیادی سیاسی سوال اور عوام کی حقیقی آواز کو خاموش کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

میرے خیال میں ہمیں اس صورتحال کو صرف مقامی تناظر میں نہیں بلکہ خطے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے پس منظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات، سرحدی معاملات، اکسائے چن اور حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بھارتی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس کئی اہم سوالات اٹھاتی ہیں۔ ان تمام تبدیلیوں کے تناظر میں یہ خدشہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جموں کشمیر کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششیں مزید تیز ہو سکتی ہیں۔

گلگت بلتستان میں ہونے والی پیش رفت بھی ہمارے لیے ایک اہم مثال ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس خطے میں چین کے مفادات ایک اہم عنصر ہیں۔

ایسی صورتحال میں میرا خیال ہے کہ دباؤ صرف قوم پرست، بائیں بازو اورترقی پسند قوتوں تک محدود نہیں رہے گا۔ وہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی، جو آج پاکستان کے مفادات کے ساتھ کھڑی ہیں، مستقبل میں سیاسی گنجائش محدود ہونے کی صورتحال سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ اگر ریاست کی موجودہ حیثیت ہی ختم کر دی گئی تو اس کے اثرات ہم سب پر پڑیں گے۔

اس لیے میں تمام سیاسی جماعتوں، تنظیموں، رہنماؤں اور جموں کشمیر ایکشن کمیٹی کے ساتھیوں سے یہ اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے باہمی اختلافات، الزام تراشی، شخصی پسند و ناپسند اور خود پسندی سے بالاتر ہو کر ایک وسیع سیاسی اتحاد کی طرف بڑھیں۔

ایسا اتحاد جو مقامی سطح سے لے کر عالمی سطح تک منظم ہو اور سیاسی و پُرامن جدوجہد کے ذریعے ریاست کے مستقبل، عوام کے حقوق اور ان کی سیاسی آواز کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے۔

خطرات اور خدشات سے بھرے اس ماحول میں ایک دوسرے کو کمزور کرنا وقت کی ضرورت نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مشترکہ خطرات کو سمجھیں، اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ایک مشترکہ سیاسی راستہ تلاش کریں۔

یہ وقت ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کا نہیں، بلکہ ریاست جموں کشمیر کے مستقبل اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ سیاسی جدوجہد کا ہے۔

٭٭٭

Share this content: