تحقیق و تحریر : خواجہ کبیر احمد
نوٹ: اس مضمون میں جلیانوالہ باغ کے ہلاکتوں سے متعلق 379 کا عدد برطانوی حکومت کی ہنٹر کمیشن رپورٹ (1920ء) کے مطابق درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی اور بعض آزاد ذرائع کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1,000 سے زائد تھی۔لہٰذا جلیانوالہ باغ کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار مختلف تحقیقات اور ذرائع میں مختلف ملتے ہیں۔ یہ وضاحت مضمون میں حوالے کی تکمیل اور علمی تصحیح کے طور پر شامل کی جا رہی ہے۔(خ/ک/ا)
تاریخ میں کچھ واقعات صرف گزرے ہوئے زمانے کے واقعات نہیں ہوتے۔ وہ اپنے اندر ایک ایسا سوال چھپا لیتے ہیں جو کئی نسلوں بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ 13 اپریل 1919 کا جلیانوالہ باغ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ ایک طرف برطانوی نوآبادیاتی اقتدار، اس کی فوج، اس کے قوانین اور اس اقتدار کے محافظ سیاسی حلقے تھے، اور دوسری طرف ہندوستان کے وہ عام لوگ تھے جو سیاسی اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے تھے۔ ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے باوجود جلیانوالہ باغ آج بھی اس بنیادی سوال کی علامت ہے کہ جب ریاست اپنے زیرِ اقتدار عوام کے سیاسی مطالبات کا جواب مذاکرات کے بجائے طاقت، خوف اور گولی سے دیتی ہے تو اس کے نتائج صرف چند لاشوں تک محدود رہتے ہیں یا پوری ریاست کی اخلاقی اور سیاسی بنیادوں کو متاثر کرتے ہیں؟اور یہی سوال آج، اگست 2026 میں، پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق کی تحریک اور اس کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے تناظر میں ایک بار پھر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔
یہاں ابتدا ہی میں ایک بنیادی فرق واضح کرنا ضروری ہے۔ 1919 کا ہندوستان براہِ راست برطانوی نوآبادیاتی اقتدار کے تحت تھا، جبکہ آج پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جبکہ پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں ایک آئینی و سیاسی نظام موجود ہے۔ اس لیے دونوں ادوار کو لفظ بہ لفظ ایک جیسا قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا (باوجود اس کے کہ اس خطے میں رائج آئین اور سیاسی نظام کسی نوآبادیاتی نظام سے مختلف نہیں) ۔ لیکن ریاستی طاقت کے استعمال، عوامی احتجاج کو خطرہ سمجھنے، طاقت کے بعد اس کے سیاسی جواز کی تعمیر، مخالف آوازوں کو دبانے اور پھر اسی کارروائی کے دفاع میں سیاسی طبقے کے کردار کا تقابلی مطالعہ ضرور کیا جا سکتا ہے۔
اور شاید یہی وہ پہلو ہے جہاں جلیانوالہ باغ اور آج کے پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کے درمیان سب سے گہری مماثلت تلاش کی جا سکتی ہے۔13 اپریل 1919 کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں ہزاروں افراد جمع تھے۔ بیساکھی کا دن تھا اور اجتماع میں سیاسی احتجاج کرنے والوں کے ساتھ عام شہری بھی موجود تھے۔ برطانوی حکومت کی ہنٹر کمیٹی کے مطابق جنرل ریجنالڈ ڈائر کے حکم پر فوج نے فائرنگ کی اور تقریباً 1,650 گولیاں چلائیں۔ سرکاری تحقیقات میں تقریباً 379 افراد کی ہلاکت تسلیم کی گئی، جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ بتائی گئی۔ ہنٹر کمیٹی کی رپورٹ نے ڈائر کے اقدام کو اس لیے بھی قابلِ تنقید قرار دیا کہ اس نے مجمع کو منتشر ہونے کی مناسب وارننگ نہیں دی اور فائرنگ اس وقت بھی جاری رکھی جب لوگ منتشر ہونا شروع ہو گئے تھے۔لیکن جلیانوالہ باغ کی اصل تاریخی اہمیت صرف ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں نہیں تھی۔ اصل مسئلہ اس ذہنیت میں تھا جس کے تحت ایک ریاستی افسر نے یہ سمجھا کہ عوام کو خوفزدہ کرنا خود حکومت کرنے کا ایک جائز ذریعہ ہے۔
جنرل ڈائر کے اپنے بیان اور بعد کی تحقیقات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف مجمع منتشر نہیں کرنا چاہتا تھا؛ اس کا مقصد ایک ایسا ’’اخلاقی اثر‘‘ پیدا کرنا تھا جو لوگوں کو ریاستی طاقت سے خوفزدہ کرے۔ یعنی گولی صرف اس وقت موجود لوگوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ پورے معاشرے کو ایک پیغام دینے کے لیے استعمال ہوئی تھی۔یہیں سے جلیانوالہ باغ کا دوسرا اور شاید زیادہ خطرناک پہلو شروع ہوتا ہے: ڈائر کے اقدام کا سیاسی دفاع۔
برطانوی سیاسی نظام میں ڈائر کے شدید ناقدین موجود تھے۔ اسے ہندوستان میں اس کی کمان سے ہٹا دیا گیا اور اس کے خلاف کارروائی ہوئی۔ لیکن دوسری طرف برطانوی سیاسی حلقوں میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس کے اقدام کو ’’ضروری‘‘ سمجھتے تھے۔ ہاؤس آف لارڈز میں ڈائر کے دفاع میں آوازیں اٹھیں اور اس کے حق میں باقاعدہ قرارداد بھی سامنے آئی۔ برطانیہ میں اس کے لیے مالی امداد جمع کی گئی۔ یعنی جس شخص نے ہندوستانی شہریوں پر گولیاں چلائیں، اس کے خلاف ریاستی سطح پر کارروائی ہونے کے باوجود سیاسی اور عوامی حلقوں کا ایک حصہ اسے مجرم کے بجائےسلطنت کا محافظ سمجھتا رہا۔یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔
ریاستی جبر صرف اس وقت خطرناک نہیں ہوتا جب بندوق چلتی ہے؛ وہ اس وقت کہیں زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب بندوق چلنے کے بعد اس کے لیے سیاسی جواز بھی پیدا کر دیا جائے۔ڈائر کے حمایتیوں کے لیے مسئلہ شہریوں کا قتل نہیں تھا؛ ان کے لیے مسئلہ سلطنت کی ’’رِٹ‘‘ تھا۔ ان کے نزدیک اگر سلطنت کو خطرہ ہو تو طاقت کا استعمال جائز تھا۔یہی وہ منطق ہے جس کا مطالعہ آج کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے حالات میں کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک اچانک 2026 میں پیدا نہیں ہوئی۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 2023 سے عوامی، معاشی اور سیاسی حقوق کے مطالبات کے ساتھ ایک نمایاں عوامی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی۔ سستی بجلی، آٹے اور بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمت، حکمران طبقے کی مراعات، عوامی وسائل پر حق، تعلیم، سیاسی نمائندگی اور بالخصوص اسمبلی کی مخصوص نشستوں جیسے معاملات تحریک کے مختلف ادوار میں زیرِ بحث رہے۔
2025 میں ہونے والے مذاکرات اور معاہدوں کے بعد تحریک میں عارضی وقفہ آیا، لیکن بنیادی سیاسی مسائل حل نہ ہونے کے باعث 2026 میں یہ دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ اس مرتبہ مسئلہ صرف معاشی مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی نمائندگی اور ریاست کے اختیار کا سوال بھی مرکز میں آگیا۔
خاص طور پر اسمبلی کی 12 مخصوص نشستیں ایک مرکزی تنازع بنیں۔ یہ نشستیں 1974 کے آئینی انتظام کے تحت ان لوگوں کے لیے مخصوص ہیں جو ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ JAAC کا مؤقف رہا کہ ایسی نشستیں ان لوگوں کو سیاسی اختیار دیتی ہیں جو ریاست میں مقیم نہیں، جبکہ حکومت اور دیگر سیاسی حلقے ان نشستوں کو موجودہ آئینی نظام کا حصہ قرار دیتے رہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس تنازع کو 2026 کے بحران کے اہم سیاسی عوامل میں شمار کیا۔ یہاں تک اختلاف سیاسی تھا۔لیکن جب سیاسی اختلاف کو طاقت کے استعمال ہلاکتوں ، گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش، سڑکوں کی بندش اور فورسز کے استعمال کے ذریعے دبانے کا مرحلہ آیا تو معاملہ ایک بڑے انسانی حقوق کے بحران میں تبدیل ہوگیا۔
جون اور جولائی 2026 کے دوران پاکستانی فورسز اور مظاہرین کے درمیان متعدد مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری اور عوامی اعداد میں نمایاں فرق موجود ہے۔ رائٹرز نے 29 جولائی کو رپورٹ کیا کہ راولاکوٹ میں JAAC نے 30 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ حکام نے کم از کم تین مظاہرین کی ہلاکت اور ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس وقت تک ایک سو سے زیادہ سویلین ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں جبکہ فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی تعداد دس سے کم بتائی جاتی ہے ۔
اے بی سی نیوز نے مقامی عینی شاہدین سے بات کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں پر فائرنگ کی گئی۔ JAAC نے جون سے فورسز کے ہاتھوں 83 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ حکومت نے اس تعداد کو مسترد کیا اور کہا کہ احتجاج میں مسلح عناصر شامل تھے۔ ABC نے واضح کیا کہ ہلاکتوں کی مکمل تعداد کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے کیونکہ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس کا بلیک آؤٹ جاری رہا اور غیر ملکی صحافیوں کی علاقے میں رسائی محدود رہی۔
یہاں ایک ذمہ دار صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے عدد کو حتمی حقیقت بنا کر پیش نہ کرے۔لیکن ایک حقیقت بہرحال واضح ہے کہ لوگ مارے گئے۔ فورسز اور مظاہرین کے درمیان خونریز تصادم ہوئے۔ ریاستی طاقت استعمال ہوئی۔ بڑی تعداد میں لوگ گرفتار یا لاپتا ہوئے۔ مواصلات متاثر ہوئے۔ اور بنیادی انسانی زندگی شدید متاثر ہوئی۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی حقوق کی تحریک ختم نہیں ہوئی۔
اگست 2026 کا آخری ہفتہ ہے آج تک یہ تحریک جاری ہے۔ راولاکوٹ اور دیگر مقامات پر احتجاجی دھرنے اور عوامی مزاحمت برقرار رہنے کی اطلاعات موجود ہیں۔ ABC News نے اگست میں راولاکوٹ میں جاری دھرنوں اور JAAC رہنماؤں کے اس مؤقف کو رپورٹ کیا کہ یہ ’’پرامن جدوجہد‘‘ جاری رہے گی۔
یعنی یہ کہنا کہ ریاست نے طاقت کے ذریعے تحریک ختم کر دی، زمینی صورتحال کی درست تصویر نہیں ہوگی۔طاقت نے تحریک کو ختم نہیں کیا؛ بلکہ اسے ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔یہاں جلیانوالہ باغ دوبارہ ہمارے سامنے آتا ہے۔
1919 میں بھی برطانوی حکام نے طاقت استعمال کر کے اجتماع کو ختم کر دیا تھا۔ اس دن جلیانوالہ باغ خالی ہوگیا تھا۔ لوگ منتشر ہوگئے تھے۔ لیکن کیا تحریک ختم ہوگئی تھی؟نہیں۔
اس کے برعکس، جلیانوالہ باغ ہندوستانی اجتماعی حافظے میں ایک ایسی علامت بن گیا جس نے برطانوی اقتدار کے خلاف سیاسی شعور کو مزید گہرا کیا۔
آج جموں کشمیر میں بھی ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے نام، جنازے، یادگاریں، زخمیوں کی کہانیاں، گرفتاریوں اور لاپتا افراد کے واقعات ایک نئی اجتماعی یادداشت تشکیل دے رہے ہیں۔ ABC نے راولاکوٹ میں ان مقامات پر بنائی گئی یادگاروں اور سرخ گلابوں کی تصاویر اور عینی شاہدین کی گواہی رپورٹ کی جہاں مظاہرین کے مطابق لوگ مارے گئے۔ دوسری جانب خودمختار صحافت کے علمبردار جموں کشمیر ٹی وی اور کاشگل نیوز کی ٹیم نے پاکستانی فورسز کے فائرینگ سے جانبحق ہونے والے افراد جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے کے ورثاء سے ملاقتیں کیں اور انکے تاثرات لیے جو مجموعی طورپر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس راستے میں قربان ہونے والے افراد کے ورثاء اسے اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں یہ تمام جذبات اپنی جگہ لیکن پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں موجودہ بحران کا ایک پہلو جلیانوالہ باغ سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔
یہ صرف گولیوں کا معاملہ نہیں۔یہ روزمرہ زندگی کے بنیادی وسائل کا معاملہ بھی بن چکا ہے۔جون اور جولائی کے دوران مختلف ذرائع نے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل میں شدید رکاوٹوں کی اطلاعات دی ہیں۔ جولائی کے آغاز میں JAAC رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے کئی ہفتوں سے خطے میں خوراک اور ادویات کی ترسیل روک رکھی ہے۔
اے بی سی نیوز نے اگست میں مقامی افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بعض علاقوں میں حکام نے خوراک کی ترسیل روک دی، کچھ علاقوں میں بجلی بند کی گئی، زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں اور بعض ہسپتالوں میں فورسز کی موجودگی کے باعث مظاہرین علاج کروانے سے خوفزدہ رہے۔
یہ صورتِ حال محض سیاسی دباؤ نہیں رہتی۔اگر ایک مریض کو دوا نہ ملے، اگر بچے کے لیے دودھ دستیاب نہ ہو، اگر زخمی کو ہسپتال پہنچنے میں خوف محسوس ہو، اگر خوراک کی ترسیل رک جائے، اگر پٹرول اور دوسری بنیادی اشیاء کی سپلائی متاثر ہو اور اگر مواصلات بند کر دیے جائیں تو ریاستی تنازع کا بوجھ صرف احتجاج کرنے والے شخص پر نہیں پڑتا۔وہ پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیاسی تنازع میں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا انتہائی سنگین انسانی مسئلہ بن جاتا ہے۔یہاں بھی جلیانوالہ باغ کا تقابل ایک مختلف شکل اختیار کرتا ہے۔
1919 میں ریاست نے گولی کے ذریعے خوف پیدا کرنے کی کوشش کی۔آج گولی کے ساتھ اگر خوراک، ادویات، نقل و حرکت، مواصلات یا علاج تک رسائی ریاستی دباؤ کا ذریعہ بن جائیں تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کتنی گولیاں چلیں؛ سوال یہ بھی بن جاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی انسانی ضروریات کے ساتھ کس حد تک سیاسی تنازع کو جوڑ سکتی ہے؟
ایک ریاست کے لیے اپنے شہریوں کو سزا دینا اور پوری آبادی کو کسی سیاسی اختلاف کی قیمت ادا کروانا دو مختلف چیزیں ہیں۔اور ایک جمہوری نظام میں دوسری چیز کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
موجودہ بحران میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی بندش نے اس انسانی بحران کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ رائٹرز نے اگست میں انتخابات کے دوران بھی انٹرنیٹ بند ہونے، سڑکوں کے کنٹینروں سے بند ہونے اور روزمرہ زندگی کے مفلوج ہونے کی صورتحال رپورٹ کی۔
جب ایک پورا خطہ دنیا سے رابطہ نہ کر سکے تو وہاں ہونے والی کسی بھی ہلاکت، گرفتاری، گمشدگی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو جاتی ہے۔اور جب آزاد صحافیوں کی رسائی بھی محدود ہو تو ریاستی بیانیہ اور عوامی بیانیہ ایک دوسرے سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے بحران میں آزادانہ، شفاف اور بین الاقوامی معیار کی تحقیقات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
اگر حکومت کا مؤقف درست ہے کہ مظاہرین میں مسلح افراد موجود تھے، تو آزاد تحقیقات اس کی تصدیق کر سکتی ہیں۔آزاد صحافت اسے سامنے لا سکتی ہے آزاد میڈیا اسے دیکھا سکتا ہے تو پھر حکومت کی ان سب پر پابندی کیوں ؟
اگر JAAC اور عینی شاہدین کا مؤقف درست ہے کہ نہتے مظاہرین پر غیر متناسب طاقت استعمال ہوئی، تو آزاد تحقیقات اسے بھی ثابت کر سکتی ہیں۔اگر دونوں طرف سے جرائم ہوئے، تو دونوں طرف کے ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔انصاف کا تقاضا یہی ہے۔لیکن یہی وہ جگہ ہے جہاں سیاسی نظام کا کردار فیصلہ کن بن جاتا ہے۔
جلیانوالہ باغ کے بعد برطانوی پارلیمنٹ مکمل طور پر ڈائر کے خلاف متحد نہیں تھی۔ ایک طرف اسے فوج سے ہٹانے کے فیصلے ہوئے، دوسری طرف ایسے سیاسی حلقے بھی موجود رہے جو اس کے دفاع میں کھڑے ہوئے۔
یہی تاریخ ہمیں آج کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سیاسی نظام کو دیکھنے کا ایک پیمانہ فراہم کرتی ہےکہ جب شہری ریاستی طاقت کے نتیجے میں مارے جائیں تو منتخب اسمبلی کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
کیا اسمبلی سب سے پہلے مقتول شہریوں کے لیے انصاف کا مطالبہ کرے؟کیا وہ آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرے؟
کیا وہ فورسز کے اختیارات اور کارروائیوں کا پارلیمانی جائزہ لے؟کیا وہ حکومت سے پوچھے کہ شہری کیوں مارے گئے؟یا وہ ریاستی مؤقف کو بغیر آزادانہ تحقیق کے قبول کر لے؟
یہ سوال کسی مخصوص رکن اسمبلی کے خلاف الزام نہیں بلکہ ایک اصولی سوال ہے۔
یہ بھی درست نہیں ہوگا کہ بغیر ثبوت اسمبلی کے ہر رکن کو کسی ایک شخص یا ادارے کا ’’حامی‘‘ قرار دیا جائے۔ لیکن اگر سیاسی نظام مجموعی طور پر ریاستی طاقت کے استعمال پر مؤثر سوال اٹھانے میں ناکام ہو تو تاریخ اس خاموشی کو بھی ریکارڈ کرتی ہے۔
جلیانوالہ باغ میں ڈائر کے حمایتیوں کی تاریخی اہمیت اسی لیے ہے۔انہوں نے گولیاں نہیں چلائیں۔لیکن انہوں نے گولی چلانے والے کے لیے سیاسی جواز پیدا کیا۔اور یہی سیاسی جواز ریاستی جبر کے تسلسل کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔بندوق چلانے والا ایک شخص ہو سکتا ہے؛ لیکن اس بندوق کو جائز قرار دینے والا بیانیہ پورے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
آج پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا ریاستی طاقت کے استعمال کو صرف ’’ریاست کی رٹ‘‘، ’’امن و امان‘‘ یا ’’مسلح عناصر‘‘ کے نام پر ختم کر دیا جائے گا، یا ہر ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں گی؟کیونکہ ریاست کی رٹ کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست قانون سے بالاتر ہو جائے۔
ریاستی اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ شہریوں کا حقِ زندگی ختم ہو جائے۔اور کسی مظاہرے میں اگر کچھ افراد تشدد کریں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے احتجاج میں موجود ہر شخص کے خلاف غیر متناسب طاقت استعمال کرنا جائز ہو جاتا ہے۔
اسی طرح اگر کسی مظاہرین نے جرم کیا ہے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ریاست اسے اجتماعی سزا دے سکتی ہے۔قانون فرد کی ذمہ داری طے کرتا ہے، پوری آبادی کو مجرم قرار نہیں دیتا۔یہی وہ بنیادی اصول ہے جو جلیانوالہ باغ اور آج کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر دونوں کے مطالعے میں سامنے آتا ہے۔1919 میں برطانوی حکومت نے یہ سمجھا کہ طاقت کے ذریعے پنجاب میں خوف پیدا کیا جا سکتا ہے۔لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔
جلیانوالہ باغ نے ہندوستانی سیاست کو مزید عوامی بنایا، گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون کی تحریک کو تقویت ملی، رابندر ناتھ ٹیگور نے نائٹ ہُڈ واپس کیا اور برطانوی اقتدار کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
یہ کہنا درست نہیں کہ صرف جلیانوالہ باغ نے برطانوی اقتدار ختم کیا۔ برطانوی انخلا دوسری جنگِ عظیم کے بعد معاشی کمزوری، آزادی کی طویل سیاسی جدوجہد، ہندوستان چھوڑ دو تحریک، ہندوستانی فوج اور بحریہ کے اندر بڑھتے سیاسی شعور، 1946 کی بحری بغاوت اور عالمی نوآبادیاتی نظام کے زوال سمیت متعدد عوامل کا نتیجہ تھا۔لیکن جلیانوالہ باغ اس طویل عمل میں ایک ایسا واقعہ ضرور تھا جس نےبرطانوی سلطنت کے اخلاقی جواز کو شدید نقصان پہنچایا۔اور یہاں سے پاکستان کے زیر انتظام موجودہ جموں کشمیر کے لیے سب سے اہم تاریخی سبق سامنے آتا ہے کہ طاقت سے احتجاج ایک دن میں ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن احتجاج کی وجہ ختم نہیں کی جا سکتی۔جب تک بنیادی سوال موجود ہیں۔نمائندگی کا سوال موجود ہے۔
سیاسی اختیار کا سوال موجود ہے۔معاشی انصاف کا سوال موجود ہے۔بجلی اور خوراک کے نرخوں کا سوال موجود ہے۔مریضوں اور عام شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات کا سوال موجود ہے۔مخصوص نشستوں کا سوال موجود ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ سوال موجود ہے کہ ریاست کے فیصلوں میں ریاست کے عام شہری کی حقیقی شرکت کتنی ہے۔ تو تحریک موجود ہے موجود رہے گی۔
اگر ان سوالات کا جواب مذاکرات، آئینی اصلاحات، آزادانہ تحقیقات اور عوامی رضامندی کے ذریعے دیا جاتا ہے تو بحران ایک سیاسی حل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔لیکن اگر جواب مزید گرفتاری، مزید طاقت، مزید مواصلاتی بندش، مزید معاشی رکاوٹ اور مزید خوف ہو تو ممکن ہے مسئلہ وقتی طور پر خاموش دکھائی دے، مگر ختم نہ ہو۔اور یہی وہ فرق ہے جسے ریاستوں کو سمجھنا چاہیے کہخاموشی امن نہیں ہوتی۔ایک بند شہر کا کھل جانا احتجاج ختم ہونے کی علامت نہیں۔
ایک انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کے سوال ختم ہوگئے۔ایک گرفتار کارکن کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا مطالبہ بھی گرفتار ہو گیا۔ایک جنازہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں رہتا؛ بعض اوقات وہ پوری تحریک کی علامت بن جاتا ہے۔جلیانوالہ باغ اس کی تاریخی مثال ہے۔
آج راولاکوٹ اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے دیگر علاقوں میں بننے والی یادگاریں، شہداء کے نام، جنازے اور دھرنے آنے والے وقت کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ تحریک کو” کمزور یا ختم ہوتا ‘‘ سمجھنا شاید سب سے بڑی سیاسی غلط فہمی ہوگی۔
یہ تحریک جاری ہے۔اور اگر آج تک لوگ دھرنوں میں بیٹھے ہیں، بنیادی حقوق کے مطالبات دہرا رہے ہیں اور JAAC قیادت اسے جاری پرامن جدوجہد قرار دے رہی ہے، تو ریاست کے سامنے اب بھی وہی بنیادی سوال موجود ہے.طاقت یا مذاکرات؟
خوراک اور ادویات کی ترسیل کے بارے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔اگر حکومت نے جان بوجھ کر بنیادی اشیاء کی ترسیل کو احتجاج دبانے کے لیے استعمال کیا تو یہ ایک انتہائی سنگین انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔اور اگر سپلائی کسی بھی اور وجہ سے رکی تو حکومت کو فوری طور پر اسے بحال کرنا چاہیے۔کیونکہ ادویات کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں ہوتیں۔خوراک کسی تحریک کا ہتھیار نہیں ہوتی۔بچے کا دودھ کسی سیاسی تنازع کا حصہ نہیں ہونا چاہیے۔مریض کا علاج کسی ریاستی یا سیاسی اختلاف کی سزا نہیں بن سکتا۔یہ اصول ہر ریاست پر لاگو ہوتا ہے۔
جلیانوالہ باغ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ ریاستی طاقت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب ریاست کے سامنے کوئی خطرہ نہ ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب شہری ناراض ہوں، سڑک پر ہوں، حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے ہوں اور ریاست کو اپنے اختیار کے بارے میں چیلنج محسوس ہو رہا ہو۔
اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ ریاست واقعی مضبوط ہے یا صرف طاقتور۔مضبوط ریاست وہ ہے جو اختلاف برداشت کر سکے۔طاقتور ریاست وہ ہے جو اختلاف کو گولی سے خاموش کر سکے۔دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔
جلیانوالہ باغ میں برطانوی سلطنت طاقتور تھی، لیکن تاریخ نے اسے مضبوط ثابت نہیں کیا۔اس کے پاس فوج تھی، اسلحہ تھا، قانون تھا، انتظامیہ تھی، جیلیں تھیں اور سیاسی حامی بھی تھے۔
لیکن اس کے پاس عوام کی رضامندی نہیں تھی۔اور بالآخر سلطنت برطانیہ کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔
آج پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں بھی سوال کسی ایک حکومت، ایک جماعت یا ایک افسر سے بڑا ہے۔سوال یہ ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق قائم کرنا چاہتی ہے؟
کیا شہری اپنے حقوق مانگنے کے لیے ریاست سے خوفزدہ رہیں گے؟یا ریاست شہریوں کے حقوق کو اپنی ذمہ داری سمجھے گی؟کیا اسمبلی عوام کی آواز بنے گی؟کیا فورسز قانون کے تابع رہیں گی؟کیا ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات ہوں گی؟کیا لاپتا افراد کے بارے میں جواب دیا جائے گا؟کیا خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی بلا رکاوٹ ترسیل بحال ہوگی؟کیا انٹرنیٹ اور آزاد صحافت پر پابندیاں ختم ہوں گی؟اور کیا عوامی حقوق کی جاری تحریک کو طاقت سے ختم کرنے کے بجائے اس کے بنیادی سیاسی مطالبات پر سنجیدہ مذاکرات ہوں گے؟ان سوالات کے جواب ہی طے کریں گے کہ 2026 کی تاریخ کو مستقبل میں کس طرح یاد کیا جائے گا۔
اگر ریاست آج انصاف، مذاکرات اور آئینی اصلاحات کا راستہ اختیار کرتی ہے تو شاید موجودہ بحران ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد کیا جائے جس کے بعد ریاست اور عوام کے درمیان تعلق بہتر ہوا۔
لیکن اگر طاقت ہی جواب رہی، اگر شہری ہلاکتوں کا حساب نہ ہوا، اگر خوراک اور ادویات کی رکاوٹ برقرار رہی، اگر مواصلات بند رہے اور اگر سیاسی مطالبات کو محض ریاست دشمنی قرار دے کر مسترد کیا گیا تو تاریخ شاید اسے ایک مختلف نام دے۔
جلیانوالہ باغ ہمیں بتاتا ہے کہ ریاستی طاقت کا سب سے بڑا نقصان وہ نہیں جو گولی لگنے سے ہوتا ہے؛ سب سے بڑا نقصان وہ ہوتا ہے جو عوام کے دل میں ریاست کے بارے میں اعتماد کے ختم ہونے سے ہوتا ہے۔جنرل ڈائر کے پاس گولیاں تھیں۔اس کے حامیوں کے پاس سیاسی جواز تھا۔برطانوی حکومت کے پاس قانون اور فوج تھی۔لیکن ہندوستان کے عوام کے پاس ایک چیز تھی جو آخرکار زیادہ طاقتور ثابت ہوئی اور وہ تھی اجتماعی حافظہ۔
آج پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر میں بھی بندوق کی آوازیں خاموش ہو سکتی ہیں، انٹرنیٹ بند کیا جا سکتا ہے، راستے روکے جا سکتے ہیں، احتجاجی مقامات خالی کرائے جا سکتے ہیں اور لوگوں کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر بنیادی سوال زندہ رہا تو تاریخ کا سفر بھی جاری رہے گا۔اور آج، یہ سوال ابھی زندہ ہے۔عوامی حقوق کی تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی۔عوامی مطالبات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ریاستی طاقت کے استعمال پر سوال ابھی ختم نہیں ہوئے۔شہری ہلاکتوں کا حساب ابھی باقی ہے۔خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء کی بلا رکاوٹ فراہمی کا سوال ابھی باقی ہے۔اور سب سے بڑھ کر ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی بحالی کا سوال ابھی باقی ہے۔
اس لیے جلیانوالہ باغ سے آج کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر تک تاریخ ہمیں ایک ہی بنیادی سبق دیتی ہے کہ ریاست بندوق کے ذریعے لوگوں کو خاموش کر سکتی ہے، مگر ان کے سوال ختم نہیں کر سکتی۔
ریاست راستے بند کر سکتی ہے، مگر مطالبات کا راستہ بند نہیں کر سکتی۔ریاست انٹرنیٹ بند کر سکتی ہے، مگر اجتماعی حافظہ بند نہیں کر سکتی۔ریاست ایک تحریک کو وقتی طور پر دبا سکتی ہے، مگر اگر اس کے بنیادی اسباب زندہ رہیں تو تحریک دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ریاست کے لیے سب سے محفوظ راستہ عوام کو شکست دینا نہیں، عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔جلیانوالہ باغ میں برطانوی سلطنت نے یہ موقع کھو دیا تھا۔آج پاکستان کے زیر انتظام ریاست جموں کشمیر کو لیکر پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومتوں اور مقتدرہ کے سامنے وہی تاریخی امتحان ایک مختلف شکل میں موجود ہے۔
طاقت کے ذریعے خاموشی یا انصاف کے ذریعے امن؟فیصلہ آج کے حکمران کریں گے۔لیکن ایک فیصلہ آنے والی تاریخ بھی کرے گی۔
٭٭٭
Share this content:


