آزاد اور تحقیقاتی نشریاتی ادارے ’حقائق‘ (Haqaiq.com) پر پاکستان کے سینئر صحافی قندیل عظیم کی شائع کردہ ایک دھماکہ خیز اور تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ کس طرح پاکستان کے مقتدرہ حلقے اور ریاست کے بااثر طبقے شدت پسند، فرقہ وارانہ اور انتہا پسندانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کو ہائیکورٹ کے جج جیسے اعلیٰ اور حساس ترین عہدوں پر فائز کر رہے ہیں۔
قندیل عظیم کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ کا یہ سب سے کمزور اور خطرناک ترین دور ہے کہ شدید نوعیت کی دہشت گردانہ سوچ، ممتاز قادری اور بلاسفیمی (توہینِ مذہب) کے نام پر بلیک میلنگ کرنے والے متنازعہ وکیلوں کو ہائیکورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریاستی مقتدرہ اور اداروں کی مبینہ سہولت کاری کے نتیجے میں ایسے عناصر عدلیہ کے اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے۔
رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج چودھری عبدالعزیز—جنہیں عدالتی معاملات پر اثر انداز ہونے کی تحقیقات کے بعد استعفیٰ دینا پڑا تھا—بلاسفیمی کے نام پر قائم نیٹ ورک اور شدت پسند بیانیے کے لیے سہولت کاری فراہم کرتے رہے ہیں۔
رپورٹ میں دستاویزی ثبوت پیش کیے گئے ہیں کہ بدنام زمانہ کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ضلع وہاڑی کے سابق صدر راؤ حبیب الرحمان، جن کا نام سنگین دہشت گردی، قتل اور فورتھ شیڈول (Fourth Schedule) میں شامل رہا ہے، ریاست کے معتبر حلقوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ مئی 2025 میں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ان کا نام فورتھ شیڈول سے نکالنے کی درخواست مسترد ہونے کے باوجود وہ طاقتور قوتوں کے ساتھ روابط کی بنا پر آزادانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
راؤ حبیب کے بھائی ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، جو خود کو "لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” کا سربراہ بتاتے ہیں، کے بارے میں فیکٹ فوکس اور سپیشل برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ ایک باقاعدہ "بلاسفیمی بزنس گروپ/گینگ” چلا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ گروپ ایف آئی اے (FIA) کے سائبر کرائم ونگ کے ساتھ مل کر پڑھے لکھے نوجوانوں کو ہنی ٹریپنگ اور جھوٹے الزامات کے ذریعے پھنسا کر اپنا کاروبار چلاتا ہے۔ اس سب کے باوجود، راؤ عبدالرحیم کو پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں رسائی حاصل ہے اور وہ وفاقی وزراء کے ساتھ آزادانہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ تین دہائیوں کے دوران جن شدت پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں پر پابندیاں لگائی گئیں، انہی کے اہم کرداروں نے مختلف نام بدل کر نئے ‘گینگ’ قائم کر لیے۔
پاکستان کے مقتدرہ حلقے اور حکومتی ادارے ان انتہا پسندوں کی سرکوبی کے بجائے نہ صرف ان کے سہولت کار بنے بلکہ انہیں جج کے عہدوں، وزراء کے ایوانوں اور پارلیمنٹ تک رسائی دیکر ملک کے قانون اور عدالتی نظام کو شدت پسندوں کا یرغمال بنا دیا۔
Share this content:


