بلوچستان میں سابق خاتون پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کوئٹہ سے گرفتار

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے سابق خاتون پولیس سرجن ڈاکٹر عائشہ فیض کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

ایک سینیئر حکومتی عہدیدار کے مطابق جب کوئی ریاست کے خلاف بات کرے گا یا جو لوگ ریاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں ان کی حمایت میں بیان دے گا تو قانون اس کے خلاف اپنا راستہ لے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف ایک ایف آئی آر سی ٹی ڈی کی جانب سے درج کی گئی ہے جبکہ دوسری ایف آئی آر ان کے خلاف ایک شہری کی جانب سے درج کروائی گئی ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنمائوں نے ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

ڈاکٹر عائشہ فیض کا تعلق ضلع مستونگ سے ہے۔ وہ بلوچستان کے معروف قوم پرست رہنما فیض محمد دہوار کی صاحبزادی ہیں۔

ان کے والد قیام پاکستان سے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک بلوچستان کے لوگوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

ڈاکٹر عائشہ فیض نے اپنی تعلیم مستونگ اور کوئٹہ سے حاصل کی۔

ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی۔

وہ طویل عرصے تک کوئٹہ میں بلوچستان کے سب سے بڑے ہسپتال سنڈیمن پروونشل ہسپتال میں پولیس سرجن کے طور پر کام کرتی رہی اور چند ماہ قبل ہی ملازمت سے ریٹائر ہوئی ہیں۔

بلوچستان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور وکلا نے ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔

سابق سینیٹر نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سماجی رابطے کی میڈیا ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کو گرفتار کر کے حکومت نے قانونی اور اخلاقی حدیں پار کر دی ہیں۔

قانون دان اور جمعیت وکلا فورم کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سیاسی یا انتظامی معاملات پر اختلافِ رائے اور تنقید کا جواب گرفتاریوں، طاقت کے استعمال اور سخت قوانین کے نفاذ سے دینا جمہوری اقدار، آئین اور قانون کی روح کے منافی ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے ان کی پریس کانفرنس کے بعد گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ اب آزادی اظہار پر مکمل پابندی لگ چکی ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض نے چند روز قبل پریس کانفرنس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، اس کے تاریخی پس منظر اور حالیہ واقعات پر اظہارِ خیال کیا تھا۔

انہوں نے بلوچ آزادی کی تحریک میں خواتین کے کردار پر بات کی تھی۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے آئندہ پرتشدد واقعات کی صورت میں مستونگ کے باغات کو بلڈوز کرنے سے متعلق بیان کی بھی مذمت کی تھی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، تاہم مقدمے میں شامل دفعات، گرفتاری کی وجوہات اور دیگر قانونی کارروائی کی مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔

Share this content: