پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے راولاکوٹ میں اہم اجلاس کے بعد باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف 9 ستمبر 2026 کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی اپیل کر دی ہے۔
اعلامیے کے مطابق، حکومتِ پاکستان کے ساتھ 4 دسمبر 2025 اور حکومتِ آزاد کشمیر کے ساتھ 29 فروری 2026 کو طے پانے والے تحریری معاہدوں کے باوجود حکومتوں کی جانب سے مطالبات پر عمل نہیں کیا گیا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ تحریک آئندہ بھی اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی اور پُرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔
کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں موقف اختیار کیا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بنیادی انسانی و سیاسی حقوق اور سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ایکشن کمیٹی درج ذیل اہم مسائل اور مطالبات پر جدوجہد کر رہی ہے:
سہولیات کی فراہمی: بجلی کے منصفانہ نرخ، ہیلتھ، ایجوکیشن اور انفراسٹرکچر کی بحالی۔
مہنگائی و ٹیکسز کا خاتمہ: کھانے پینے کی اشیاء پر سستائی، ظالمانہ ٹیکسز، ٹول پلازوں اور انٹرنیٹ و موبائل سروسز پر اضافی چارجز کی منسوخی۔
بدعنوانی کا خاتمہ: ملازمتوں میں بدعنوانی، کرپشن اور عوامی وسائل پر نام نہاد قبضوں کے خلاف کارروائی۔
ایکشن کمیٹی نے تاجر برادری، اساتذہ، وکلاء، مزدوروں، خواتین، بزرگوں اور جوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 9 ستمبر کو اپنے گھروں سے نکل کر تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں احتجاج کو منظم کریں۔ تمام ذیلی تنظیموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دیے گئے شیڈول کے مطابق ہڑتال اور مظاہروں کو کامیاب بنائیں۔
Share this content:


