بلوچستان بھر میں امن و امان کی ابتر صورتحال، سیکیورٹی ناکامیوں اور قائم ریاستی کنٹرول پر شدید سوالات کے درمیان ایک طرف اہم عسکری تنصیب پر قبضہ اور دوسری جانب اعلیٰ عدالتی عہدیدار کے لاپتہ ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے غزابند میں واقع ایئرپورٹ پر مسلح افراد نے حملہ کر کے عمارت پر قبضہ کر لیا اور وہاں موجود مواصلاتی آلات و سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا۔
سوشل میڈیا پر وائرل منظرِ عام تصویر میں ایئرپورٹ کے واچ/کنٹرول ٹاور کے بالائی حصے اور شیشوں سے گہرا کالا دھواں نکلتے دیکھا جا سکتا ہے، جو اندرونی آلات اور ساخت کو نذرِ آتش کیے جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
تصویر میں جدید خودکار ہتھیار سے لیس ایک موٹر سائیکل سوار عسکریت پسند ٹاور کے سامنے آزادانہ نقل و حرکت کرتا دکھائی دے رہا ہے، جس سے تنصیب پر مکمل کنٹرول کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال شدید کشیدہ ہے، تاہم حکام کی جانب سے نقصان کے حتمی تخمینے پر کوئی باضابطہ بیانیہ سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب حب کے سینئر سول جج علی بیگ قلات سے سوراب اپنے گھر جاتے ہوئے قومی شاہراہ سے پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق دورانِ سفر جج صاحب کا اہل خانہ سے اچانک رابطہ منقطع ہوا، جس کے بعد ان کے سراغ کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود کسی بھی فریق یا تنظیم نے جج کو حراست میں لینے یا اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
قومی شاہراہوں سے اہم عدالتی عہدیدار کے غائب ہونے اور ایئرپورٹ جیسی حساس تنصیب پر قبضے نے بلوچستان میں سیکیورٹی کے سنگین بحران کو طشت از بام کر دیا ہے۔
سیاسی و مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انتظامی کنٹرول کا دائرہ کار محدود ہو چکا ہے اور ریاستی مشینری کی رٹ ناپید دکھائی دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب مرکزی شاہراہوں اور اضلاع میں بلوچ آزادی پسند تنظیموں اور مسلح تحرک کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
Share this content:


