گلگت / کاشگل نیوز
پاکستان کی وفاقی حکومت نے وزیراعظم شہباز شریف کے سیاحتی اقدام کے تحت گلگت بلتستان کی 464 کلومیٹر طویل 7 اہم سڑکوں کو وفاقی تحویل میں لینے کی تجویز دی ہے۔
گلگت بلتستان کابینہ اس حوالے سے منظوری دے چکی ہے جبکہ وفاقی کابینہ سے حتمی منظوری لی جائے گی۔
مجوزہ منصوبے کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) ان سڑکوں کی تعمیر، توسیع، بحالی اور طویل مدتی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گی، جبکہ منصوبے کے لیے فنڈز وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔
وفاق کے حوالے کی جانے والی سڑکوں میں 54 کلومیٹر استور، چلم چوکی روڈ، 31 کلومیٹر دیوسائی، اسکردو روڈ، 100 کلومیٹر اسکردو، خپلو روڈ، 17 کلومیٹر اسکردو تھورگو، شگر روڈ، 36 کلومیٹر نلتر تا سترنگی جھیل روڈ، 121 کلومیٹر تھلیچی، استور، رٹو، شونٹر روڈ اور 105 کلومیٹر گوریکوٹ، شگر تھنگ، اسکردو روڈ شامل ہیں۔
حکام کے مطابق سیاحوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم گلگت بلتستان کے مقامی باشندوں کو مجوزہ ٹول ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔ ٹول ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن خطے کے سڑکوں کے نظام کی بہتری پر خرچ کیے جانے کی تجویز ہے۔
وفاقی تحویل میں سڑکوں کی منتقلی کا مقصد خطے میں سفری رابطوں کو بہتر بنانے، سڑکوں کی پائیدار دیکھ بھال اور سیاحت کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد منصوبے پر عملی پیش رفت متوقع ہے۔
Share this content:

