پاکستان زیر انتظام کشمیر میں مکمل پہیہ جام و شٹر ڈاؤن ہڑتال، عوامی تحریک کے 3 ماہ مکمل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی کال پر 9 ستمبر کو کشمیر بھر میں مکمل اور جزوی شٹر ڈاؤن و پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔

اس احتجاج کے ساتھ ہی عوامی حقوق کے چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے جاری تحریک کو 3 ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔

نو جون کو بھمبر سے مظفرآباد کے تاریخی لانگ مارچ سے شروع ہونے والے اس احتجاج کے تین ماہ مکمل ہونے پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دوبارہ ریاست گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔

راولاکوٹ، باغ اور کوٹلی: راولاکوٹ اور باغ میں مکمل شٹر ڈاؤن رہا جہاں تمام کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی۔ ضلع باغ میں انتظامیہ کی جانب سے ہڑتال میں حصہ لینے والی متعدد دکانوں کو سیل کرنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ پلیٹ اپر اڈہ کی تمام مارکیٹیں اور تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے، جبکہ بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں۔

تمام اضلاع اور قصبوں میں شاہراہوں پر عمومی ٹریفک کی روانی معمول سے انتہائی کم رہی۔

عوامی ایکشن کمیٹی کا مرکزی دھرنا راولاکوٹ میں گزشتہ تین ماہ سے جاری ہے جہاں ہزاروں شہری اپنے جائز حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکراتی عمل میں اب تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث فریقین کے درمیان جمود برقرار ہے۔

ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی حتمی منظوری تک احتجاجی سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ حکومتی حلقے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔

Share this content: