بلوچستان میں پاکستانی فوج کی فائرنگ سے ہلاکتیں ،لاشوں کے ہمراہ 48 گھنٹوں سے کوئٹہ کراچی شاہراہ بلاک

بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں پاکستانی فوج کی کارروائی کے دوران شادی کی تقریب کو نشانہ بنانے کے بعد لاشوں کے ہمراہ مقامی آبادی کا شدید احتجاج مسلسل دوسرے دن بھی جاری ہے۔ کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ (N-25) کو بلاک کیے جانے سے دونوں شہروں کے درمیان ہر قسم کی مواصلاتی و تجارتی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ خونریز واقعہ گزشتہ روز وڈھ کے علاقے سونارو پاٹ ندی کے قریب واقع ایک مقامی گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ رات گئے پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے گاؤں میں داخل ہو کر بلا اشتعال اور اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس خوفناک کارروائی کے نتیجے میں ایک معصوم بچے سمیت 4 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ تقریب میں موجود خواتین اور دیگر بچے گولیوں کی زد میں آ کر شدید زخمی ہوئے۔

فورسز کی اس پیش قدمی کے خلاف علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ لواحقین اور مقامی شہریوں نے شہداء کی لاشیں کوئٹہ-کراچی قومی شاہراہ پر رکھ کر دھرنا دے دیا ہے جو گزشتہ 48 گھنٹوں (24 گھنٹوں سے زائد) سے تاحال جاری ہے۔

شاہراہ کی مسلسل بندش سے سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں اور مال بردار ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ چکی ہیں جس سے مسافروں اور ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نہتے شہریوں اور آبادی پر حملہ کرنے والے فوجی اہلکاروں کو فوری گرفتار کیا جائے۔ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ شہری آبادیوں پر اس نوعیت کے متشدد آپریشنز کا سلسلہ فی الفور بند کیا جائے۔

واقعے پر پاکستانی فوج کا باضابطہ موقف سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران مسلح افراد کو نشانہ بنا کر مارا گیا ہے۔

تاہم، متاثرین اور لواحقین نے فوج کے اس موقف کو سخت مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ "ایک جاری شادی کی تقریب میں ہلاک ہونے والا معصوم بچہ اور محنت کش سویلین شہریوں کو کس بنیاد پر مسلح قرار دیا جا رہا ہے؟”

Share this content: