ریاستی دباؤ، درجنوں ہلاکتیں، سیکڑوں گرفتاریاں کشمیری عوام کی امیدوں کے دیے نہیں بجھا سکیں

تحریر : فرحان طارق

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی ) کے لانگ مارچ و احتجاجی دھرنوں کو تین مہینے مکمل ہوچکے ہیں۔

خطے میں سال 2023 میں جنم لینے والی عوامی حقوق تحریک جو ستر سالہ فرسودہ جمہوریت کا لبادہ اڑھے نظام اور مقامی سیاسی اشرافیہ کے خلاف اٹھنے والی پہلی عوامی تحریک بن کر ابھری اور دیکھتے ہی دیکھتے عوامی حلقوں میں اپنا الگ مقام بنا گئی ،دہائیوں سے مسلط نسل در نسل حکمرانی کرنے والے مسیحا کے لباس میں چھپےحکمران طبقات کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ان سے سوال کرنے لگی؟

آج سے تین ماہ قبل 9 جون کو اس تحریک نے نیا رخ اختیار کیا اور اپنے طے شدہ اعلان کے مطابق بھمبر سے خطے کے دارالخلافت کی جانب لانگ مارچ کا آغاز ہوا لانگ مارچ سے قبل کریک ڈاون و گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا جو 5 جون سے تا حال جاری ہے۔

پونچھ میں جاری احتجاجی دھرنوں کو 9 ستمبر کو تین ماہ مکمل ہو رہے ہیں، حکومت پاکستان کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جے کے جے اے اے سی نے 5 ستمبر کو اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں نو ستمبر کو خطے بھر میں تالہ بند ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔

کیا وحشت دہشت ان دیوں کو بجاسکی؟

اگرچہ دھرنوں اور احتجاج کا مرکز پونچھ ہے مگر کیا خطے کے دوسرے حصوں میں اس تحریک کے حمایتی ختم ہو چکے ہیں ؟ بظاہراور عکس بندی سے اس کا جواب ( ہاں } میں نظر آتا ہے مگر ہم نے اس پر خطے کے مختلف حصوں میں آباد مختلف طبقات سے بات کی جو آن کیمرہ بات تو نہیں کرنا چاہتے مگر وہ کہتے ہیں ہماری سپورٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہے اگر کیمرے کے سامنے بات کریں گے تو ہمیں گرفتار کر لیا جائے گا یا تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا اس سے یوں لگتا ہے جیسے کسی نےچنگاری کے اوپر راکھ ڈال کر اس کی سانس کو بند کر رکھا ہو یہ الگ بات ہے ہوا کا کوئی جھونکا اس راکھ کو کسی بھی لمحےاپنے ساتھ اڑا لے جائے گااور اس چنگاری کو جلا بخشے گا جو شعلہ بھی بن سکتی ہے اس کا فیصلہ آنے والا وقت طے کرے گا ۔

روشنی کو درکار دیے جلائے گا کون؟

اس خطے کے روایتی سیاست دان ہوں یا قوم پرست ان سب نے عوام کو سری نگر جانے والے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا رہا ۔ غیروں کی ایما پر خطے کے مسائل سے توجہ ہٹا کر سری نگر کی آزادی پر مرکوز کی گئی اور سیز فائر لائن کے آر پار نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما کر انسانی خون سے ہولی کھیلی گئی ۔

جب پسے طبقات نے متحد ہو کر ستر سالہ نظام کے متعلق پوچھا اپنے حقوق مانگے تو وطن دشمن ایجنٹ قرار دے دیے گئے مگر اب اس تین سالہ عوامی تحریک نے ایک ایسی نرسری کی بنیادی رکھ دی ہے جہاں قدم قدم پہ روز بہ روز دیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ غدار سوال پوچھنے والوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھ رہی ہے، طاقت ور وحشی حکمران طبقہ زور زور سے پھونکیں مار کر دیوں کو بچھانے میں مصروف ہے مگر مایوسی کا سامنا ہے۔

تین ماہ دبی چیخیں سسکیاں اور طویل انٹرنیٹ بندش!

5 اور 6 جون سے بند انٹرنیٹ سروس نے جہاں وقتی معلومات کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکے رکھا مگر حالات سے ٹکرا کر معلومات کسی نا کسی ذریعے سے سسکتی چیخ اور عوامی آوازوں نے ریاستی پردے کو پس دیوار دھکیل دیا ہے۔

٭٭٭

Share this content: