جی ایس پی پلس، انسانی حقوق اور کشمیر: 2029 سے پہلے پاکستان کو کیا کرنا ہوگا؟

تحقیق و تحریر: خواجہ کبیر احمد

پاکستان کے لیے یورپی یونین کا جی ایس پی پلس (عمومی ترجیحات کا خصوصی تجارتی نظام) محض ایک تجارتی سہولت نہیں بلکہ انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ، اچھی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم نظام ہے۔ پاکستان یکم جنوری 2014 سے جی ایس پی پلس سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور ملبوسات، کے لیے اس سہولت کی غیر معمولی معاشی اہمیت ہے۔ یورپی یونین کے مطابق اس نظام کے تحت مستفید ہونے کے لیے متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کے ساتھ ان پر مؤثر عملدرآمد بھی بنیادی تقاضا ہے۔

اب اس معاملے میں ایک نہایت اہم بات سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس نے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کے لیے 2029 میں جی ایس پی پلس کا تسلسل یقینی یا ضمانت شدہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کے بارے میں فیصلہ 2029 کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے اور اس فیصلے میں پاکستان کی جانب سے متعلقہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدوں پر عملدرآمد کی صورتِ حال اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس اصلاحات کے لیے وقت موجود ہے، لیکن محض قوانین یا معاہدوں کی توثیق کافی نہیں؛ عملی اقدامات اور واضح سیاسی عزم درکار ہیں۔

یہ بیان پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ پاکستان نے کتنے بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان معاہدوں کے تحت حاصل ہونے والے حقوق پاکستان کے اندر رہنے والے لوگوں کو عملی طور پر کس حد تک حاصل ہیں۔

یہاں ایک بنیادی آئینی، سیاسی اور بین الاقوامی فرق کو واضح کرنا ضروری ہے، کیونکہ پاکستان کے اندر انسانی حقوق اور پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتِ حال کو ایک ہی آئینی زمرے میں رکھنا درست نہیں ہوگا۔ پاکستان کے چار صوبے—پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—پاکستان کی آئینی ریاست کا حصہ ہیں اور ان میں رہنے والے لوگ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ پاکستان کی اپنی آئینی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ان بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت بھی ضروری ہے جن کی پاکستان نے توثیق کر رکھی ہے۔ لہٰذا ان صوبوں میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی، سیاسی شرکت، پرامن اجتماع، منصفانہ عدالتی عمل یا اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ پاکستان کے اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حیثیت بنیادی طور پر مختلف ہے۔ ریاست جموں و کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ایک بین الاقوامی طور پر متنازع ریاست ہے، جس کی حتمی سیاسی حیثیت ابھی طے نہیں ہوئی۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا خطہ ہے جس پر پاکستان انتظامی اختیار رکھتا ہے۔ یہی فرق پاکستان کی ذمہ داری کو کم نہیں بلکہ کئی حوالوں سے زیادہ حساس بنا دیتا ہے، کیونکہ یہاں پاکستان صرف اپنے آئینی شہریوں کے ساتھ اپنے ریاستی تعلق کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک متنازع خطے میں مؤثر انتظامی اختیار رکھنے والی ریاست کے طور پر بھی بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار اور اپنے بین الاقوامی وعدوں کے حوالے سے جواب دہی کا سامنا کرتا ہے۔ چنانچہ وہاں کے باشندوں کے جان، آزادی، عزت، اظہارِ رائے، پرامن اجتماع، سیاسی شرکت، منصفانہ عدالتی عمل اور دیگر بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ محض داخلی سیاسی معاملہ نہیں رہتا بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی نگرانی کے تناظر میں بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے عوام کا ایک بڑا حصہ خطے سے باہر، خصوصاً برطانیہ اور یورپ میں آباد ہے۔ دستیاب مختلف اندازوں کے مطابق اس خطے سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی کشمیری آبادی بیرونِ ملک مقیم ہے، اور اس کا نمایاں حصہ برطانیہ اور یورپ میں رہتا ہے۔ اگر پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی حقوق، آزادیٔ اظہار، پرامن احتجاج یا دیگر بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے صورتِ حال خراب ہوتی ہے تو وہاں کے باشندوں کی آواز صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہتی؛ بیرونِ ملک آباد کشمیری بھی جمہوری معاشروں میں اپنی آواز اٹھاتے ہیں، اپنے نمائندوں، پارلیمانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی اداروں تک اپنی شکایات اور مطالبات پہنچاتے ہیں۔ یوں پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع ریاست میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پاکستان کے لیے ایک اضافی بین الاقوامی توجہ اور سفارتی و انسانی حقوق کے دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

اس لیے پاکستان کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ایک بنیادی آئینی و ریاستی ذمہ داری ہے، لیکن پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع جموں و کشمیر میں عوام کے حقوق کا معاملہ اس خطے کی منفرد بین الاقوامی حیثیت کی وجہ سے مزید حساس ہے۔ وہاں طاقت کے استعمال، سیاسی اختلاف، پرامن احتجاج، گرفتاریوں یا انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق کوئی بھی معتبر اطلاعات صرف داخلی سطح پر زیرِ بحث نہیں رہتیں بلکہ بیرونِ ملک کشمیری برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی پارلیمانوں، سول سوسائٹی اور دیگر بین الاقوامی اداروں تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ وہاں کے عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ کسی بیرونی دباؤ کے خوف سے نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری، قانون کی حکمرانی اور ایک متنازع خطے میں اپنے انتظامی کردار کے تقاضوں کے تحت یقینی بنائے۔

جی ایس پی پلس کے تناظر میں بھی یہ فرق اہم ہے۔ یورپی یونین کسی ملک کی انسانی حقوق کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے اس ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر نظر رکھتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے جن بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کی گئی ہے، ان پر مؤثر عملدرآمد کا سوال پاکستان کی مجموعی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ اس لیے پاکستان کے اپنے آئینی علاقوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں بھی انسانی حقوق کی صورتِ حال اہم ہے جہاں پاکستان مؤثر انتظامی اختیار استعمال کرتا ہے۔

یہاں کشمیر کے معاملے میں ایک اور بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کو پاکستان کا باقاعدہ صوبہ قرار دے دینا بھی اس خطے کی متنازع حیثیت کو ختم نہیں کرتا۔ اسی طرح اس خطے کے عوام کو صرف پاکستان کے عام شہریوں کے طور پر بیان کرنا ان کی مخصوص سیاسی و آئینی حیثیت کو بھی نظرانداز کردیتا ہے۔ وہاں کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اپنی جگہ، جبکہ ریاست جموں و کشمیر کی حتمی سیاسی حیثیت کا سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

یہ فرق اس وقت اور زیادہ اہم ہوجاتا ہے جب پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں سیاسی احتجاج، عوامی تحریک، آزادیٔ اظہار، صحافتی آزادی یا ریاستی طاقت کے استعمال کے واقعات زیرِ بحث آئیں۔ اگر پرامن شہری اپنے سیاسی، آئینی یا معاشی حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو ریاست کا بنیادی فرض یہ ہونا چاہیے کہ ان کے مطالبات کو سنا جائے، مذاکرات کیے جائیں اور اگر کسی قانون کی خلاف ورزی کا الزام ہو تو اس کا فیصلہ شفاف قانونی طریقۂ کار کے ذریعے کیا جائے۔

اگر کسی واقعے میں پاکستانی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال، گرفتاری، حراست، مبینہ جبری گمشدگی، ماورائے عدالت ہلاکت یا صحافیوں کو کام سے روکنے جیسے الزامات سامنے آتے ہیں تو ان کی آزادانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونی چاہئیں۔ کسی بھی الزام کو حتمی حقیقت قرار دینے کے بجائے معتبر شواہد، عینی شاہدین، طبی ریکارڈ، تصاویر و ویڈیوز، عدالتی دستاویزات اور آزادانہ انسانی حقوق کی تحقیقات کی بنیاد پر حقیقت تک پہنچنا ضروری ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے لیے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کا معاملہ کشمیر سے جڑتا ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کسی ایک واقعے کے نتیجے میں پاکستان کا جی ایس پی پلس خود بخود ختم ہوجائے گا۔ جی ایس پی پلس کا عمل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ لیکن یہ بھی درست نہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر یا پاکستان کے کسی بھی حصے میں انسانی حقوق سے متعلق معتبر اور مسلسل سامنے آنے والی اطلاعات عالمی نگرانی کے عمل سے مکمل طور پر باہر رہیں گی۔

یورپی یونین جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر لیتی ہے، جن میں اقوام متحدہ کے متعلقہ نگرانی کرنے والے ادارے، یورپی ادارے، سول سوسائٹی اور دیگر معتبر ذرائع شامل ہوسکتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے حوالے سے صرف بیرونی تنقید کا جواب دینے کے بجائے اپنے اندر مؤثر اصلاحاتی نظام قائم کرے۔

اسی نگرانی کے عمل میں اب ایک اہم پیش رفت سامنے آچکی ہے۔ یورپی کمیشن نے 16 جولائی 2026 کو پاکستان کے لیے 2023 تا 2025 کے GSP+ جائزے میں کہا کہ انسانی حقوق کے متعدد شعبوں میں عملدرآمد کے حوالے سے سنگین اور نظامی چیلنجز برقرار ہیں اور بعض شعبوں میں صورتِ حال میں پس رفت بھی دیکھی گئی ہے، خصوصاً جبری گمشدگیوں، اقلیتوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور پرامن اجتماع کے حوالے سے۔ اسی جائزے میں کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ GSP+ کی مستقبل کی نگرانی محض معاہدوں کی توثیق تک محدود نہیں بلکہ ان کے مؤثر عملی نفاذ پر مرکوز ہے۔ اس کے بعد 31 اگست 2026 کو پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس نے بھی واضح کیا کہ 2029 کے بعد پاکستان کے لیے GSP+ کا تسلسل ’’یقینی یا ضمانت شدہ‘‘ نہیں اور فیصلہ اقوام متحدہ کے کنونشنز پر پاکستان کے عملی عملدرآمد کی بنیاد پر ہوگا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان اس وقت کسی فوری GSP+ خاتمے کا سامنا نہیں کر رہا، لیکن 2029 کے فیصلے کے لیے اس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ باقاعدہ اور سنجیدہ نگرانی کے مرحلے میں ہے۔

یورپی یونین کے سفیر کی جانب سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، آزادیٔ اظہار، صحافیوں کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق جیسے معاملات کا ذکر اسی وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ معاملات صرف بیرونی دباؤ سے بچنے کے لیے حل نہیں کیے جانے چاہئیں بلکہ اس لیے حل کیے جانے چاہئیں کہ ایک ریاست کی اصل طاقت اس کے شہریوں کے اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔

پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں اس کی سفارتی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ اگر پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں کردار ادا کرتا ہے یا غزہ اور دیگر عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں کرتا ہے تو یہ یقیناً اہم ہے۔ لیکن کسی بھی ملک کی سفارتی اہمیت اسے انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔ جی ایس پی پلس کے حوالے سے بھی یہی بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ سیاسی اہمیت اور انسانی حقوق کے معیار کو الگ الگ رکھا جاتا ہے۔

پاکستان کے پاس ابھی وقت ہے۔ 2029 کا فیصلہ آج نہیں ہونا، لیکن 2029 تک پاکستان جو اقدامات کرے گا، وہ اس فیصلے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ 2029 میں کیا ہوگا؛ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان 2029 تک کیا کرے گا۔

اگر پاکستان آج سے ہی اپنے چاروں صوبوں میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، جبری گمشدگیوں کے خاتمے، ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات، آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار اور سیاسی شرکت کے مؤثر تحفظ کے لیے سنجیدہ اصلاحات شروع کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف جی ایس پی پلس تک محدود نہیں ہوگا۔ اس سے پاکستان کے اندر قانون کی حکمرانی، جمہوری اداروں اور عوامی اعتماد کو بھی تقویت ملے گی۔

اسی طرح پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع جموں و کشمیر میں بھی طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مکالمے، مذاکرات اور آئینی و سیاسی طریقۂ کار کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ وہاں کے باشندوں کی مخصوص متنازع حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی سیاسی مطالبے سے اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن پرامن اختلاف کو جرم یا دشمنی سمجھنا مسئلے کا حل نہیں۔

پاکستان کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انسانی حقوق صرف ان لوگوں کے حقوق نہیں جن سے حکومت متفق ہو۔ انسانی حقوق کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں شہری ریاست کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ ایک جمہوری ریاست کی مضبوطی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس نے اختلاف کی آواز کتنی جلدی خاموش کردی، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ اس نے اختلاف کو کتنے تحمل، قانون اور انصاف کے ساتھ سنا۔
پاکستانی عوام، سیاسی جماعتوں، وکلا، صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کو چاہئیے کہ انسانی حقوق کے معاملے کو پاکستان کے خلاف کسی مہم کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ پاکستان کے اپنے چاروں صوبوں میں رہنے والے شہریوں کے حقوق ہوں یا پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق، ان کے تحفظ کا مطالبہ دراصل ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کا مطالبہ ہے جہاں ریاست اور عوام کے درمیان تعلق طاقت کے بجائے قانون اور اعتماد پر قائم ہو۔

پاکستانی حکومت کو چاہئیے کہ 2029 کا انتظار نہ کیا جائے۔ یورپی یونین کے کسی فیصلے کے خوف سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے حقوق کے احترام کے لیے آج ہی مؤثر اصلاحات شروع کی جائیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی جائے، اور پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر میں وہاں کی مخصوص سیاسی و آئینی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور پرامن احتجاج کے حق کا تحفظ کیا جائے۔

ہر الزام کی آزادانہ تحقیقات ہوں، ہر شہری کو قانون کے مطابق انصاف ملے، صحافیوں کو آزادانہ کام کرنے دیا جائے، پرامن سیاسی اختلاف کو طاقت سے نہیں بلکہ مذاکرات سے حل کیا جائے، اور ریاستی اداروں کو قانون اور آئین کے دائرے میں جواب دہ بنایا جائے۔

پاکستان کے پاس انتخاب موجود ہے کہ وہ 2029 تک انتظار کرکے عالمی فیصلے کا سامنا کرے، یا آج ہی اصلاحات کرکے دنیا کو دکھائے کہ پاکستان انسانی حقوق کو کسی بیرونی شرط کے طور پر نہیں بلکہ اپنی ریاستی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

پاکستانی عوام کی بھی زمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے ہر شہری کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ساتھ ہی پاکستان کے زیرِ انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر کے پرامن باشندوں کے انسانی اور سیاسی حقوق کا بھی احترام اور تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کریں۔ حکومت سے کہیں کہ اختلاف کو طاقت سے نہیں، مذاکرات سے حل کیا جائے؛ الزامات کو چھپانے کے بجائے آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں؛ اور انسانی حقوق کو عالمی دباؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ انصاف، قانون اور انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جائے۔

کیونکہ ایک مضبوط پاکستان وہ نہیں جس سے اس کے شہری خوفزدہ ہوں؛ ایک مضبوط پاکستان وہ ہے جس پر اس کے شہری اعتماد کریں۔

٭٭٭

Share this content: