کشمیری قوم کا اقوامِ متحدہ، بھارت، پاکستان اور عالمی برادری کے سامنے ایک سوال
تحریر: خواجہ کبیر احمد
دنیا کے نقشے کو درست کرنے کی ایک حالیہ قرارداد نے بظاہر ایک جغرافیائی اور فنی مسئلے کو عالمی سطح پر موضوعِ بحث بنایا ہے، لیکن ریاست جموں کشمیر کے تناظر میں اس قرارداد نے ایک ایسا بنیادی سوال ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے جو گزشتہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے عالمی سیاست، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے سامنے موجود ہے کہ اگر دنیا کے نقشے میں کسی خطے کی جغرافیائی حقیقت کو درست طور پر دکھانا ضروری ہے تو پھر اس خطے کے عوام کی سیاسی حقیقت اور ان کے مستقبل کے فیصلے کے حق کو کب درست طور پر تسلیم کیا جائے گا؟
4 ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ’’نقشہ درست کرو‘‘ (Correct the Map) کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی، جس کا بنیادی مقصد دنیا کے نقشوں میں مختلف خطوں اور خصوصاً افریقہ کے حقیقی رقبے کو زیادہ درست اور متوازن انداز میں ظاہر کرنا اور مساوی رقبے والی نقشہ سازی کے طریقوں کو فروغ دینا تھا۔ قرارداد 164 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی، امریکہ نے مخالفت کی جبکہ چھ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد کا تعلق بنیادی طور پر اس جغرافیائی مسئلے سے تھا کہ صدیوں سے استعمال ہونے والا مریکٹر نقشہ (Mercator Projection) قطبی علاقوں کو ان کے حقیقی رقبے سے کہیں بڑا اور خطِ استوا کے قریب واقع علاقوں کو نسبتاً چھوٹا دکھاتا ہے۔ نئی مساوی رقبے والی نقشہ سازی کا مقصد اس عدم توازن کو کم کرنا ہے۔ یہ قرارداد قانونی طور پر لازم بھی نہیں ہے اور اس نے دنیا کے کسی ملک کی سرحد یا کسی متنازع خطے کی حتمی سیاسی حیثیت تبدیل نہیں کی۔
لیکن اس معاملے کی جموں کشمیر کے لیے اہمیت اس وقت بڑھ گئی جب بھارت نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور اس کے بعد بھارتی حکومت نے اپنی وضاحت میں یہ ضرور کہا کہ قرارداد کی حمایت کا مطلب کسی مخصوص نقشے یا سیاسی سرحدی حیثیت کی توثیق نہیں ہے۔ بھارت نے ساتھ ہی جموں کشمیر اور لداخ کو اپنے سرکاری نقشے کے مطابق دکھانے پر اصرار کیا اور واضح کیا کہ اس معاملے پر اس کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہاں ایک بنیادی بات کو واضح کرنا ضروری ہے، کیونکہ جذباتی سیاسی بیان اور بین الاقوامی قانونی حقیقت میں فرق ہوتا ہے۔ یہ کہنا کہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد نے جموں کشمیر کو ایک مرتبہ پھر متنازع قرار دے دیا ہے، درست نہیں ہوگا۔ یہ قراردادجموں کشمیر کے بارے میں کوئی نئی سیاسی یا قانونی قرارداد نہیں ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ بھارت نے محض اس قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر باضابطہ طور پر جموں کشمیر کو متنازع تسلیم کر لیا ہے۔ بھارت نے خود اس تشریح کو مسترد کیا ہے اور اپنے سرکاری مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔
لیکن اس قانونی احتیاط کے باوجود اس واقعے کی سیاسی اہمیت کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کے لیے بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ کسی نقشے پر جموں کشمیر کس رنگ میں دکھایا جاتا ہے، بلکہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ آخر کس نے کرنا ہے۔
ریاست جموں کشمیر کے عوام کا ایک مضبوط اور مسلسل مؤقف رہا ہے کہ ریاست کا کوئی بھی حصہ، خواہ اس وقت بھارت کے انتظامی کنٹرول میں ہو، پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں ہو یا کسی دوسرے فریق کے کنٹرول میں، محض انتظامی یا عسکری قبضے کی وجہ سے اس کی حتمی سیاسی ملکیت نہیں بن جاتا۔ کشمیری عوام کے نزدیک پوری ریاست ایک متنازع خطہ ہے اور ریاست کا ایک ایک انچ کسی نہ کسی فریق کے انتظامی یا عسکری کنٹرول میں ضرور ہو سکتا ہے، مگر انتظامی قبضہ اور حتمی سیاسی حیثیت دو الگ معاملات ہیں۔اور یہی فرق کشمیر کے مسئلے کو سمجھنے کی بنیادی کنجی ہے۔
ایک فوج کسی علاقے پر قابض ہو سکتی ہے، ایک حکومت کسی علاقے کا انتظام چلا سکتی ہے، ایک ملک اپنے آئین میں کسی خطے کو اپنا حصہ قرار دے سکتا ہے اور کوئی دوسرا ملک اسی علاقے کو متنازع قرار دے سکتا ہے، لیکن ان سب دعوئوں کے باوجود بنیادی سوال یہ رہتا ہے کہ اس خطے کے عوام خود اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کیا چاہتے ہیں۔ کشمیر کے معاملے میں یہی سوال 1947 کے بعد سے حل طلب ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 20 جنوری 1948 کو قرارداد 39 کے ذریعے ہندوستان اور پاکستان کے سوال سے متعلق کمیشن قائم کیا، جبکہ 21 اپریل 1948 کی قرارداد 47 میں جموں کشمیر میں امن و امان کی بحالی اور رائے شماری کے سوال کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا۔ اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے جموں کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ سے کبھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔
یہاں کشمیری عوام کا مؤقف مزید اہم ہو جاتا ہے۔ ان کے نزدیک ریاست کسی ایک ملک کی ملکیت بن جانے کا فیصلہ صرف اس وجہ سے نہیں کر سکتی کہ اس وقت اس کے کسی حصے پر اس ملک کا جھنڈا لہرا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے بہت سے تاریخی تنازعات صرف طاقت کے استعمال سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے۔ بین الاقوامی سیاست کی تاریخ بتاتی ہے کہ قبضہ، انتظام اور حتمی سیاسی تصفیہ تین الگ چیزیں ہیں۔
کشمیر میں جنگ بندی لکیر بھی اسی حقیقت کی ایک مثال ہے۔ یہ ایک عملی فوجی حد بندی ہے، لیکن اسے ایک باقاعدہ بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ 1972 کے شملہ معاہدے کے بعد جنگ بندی کی لکیر کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا اور دونوں ممالک نے اس کا احترام کرنے پر اتفاق کیا، لیکن اپنے اپنے دعووں سے دستبردار نہیں ہوئے۔
چنانچہ جموں کشمیر کے عوام کے لیے حالیہ نقشہ سازی کی قرارداد سے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر نقشہ کسی علاقے کی حتمی سیاسی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتا تو پھر کسی ملک کا اپنا سرکاری نقشہ بھی اس خطے کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کیسے کر سکتا ہے؟یہ سوال بھارت سے بھی ہے، پاکستان سے بھی اور عالمی برادری سے بھی۔
بھارت کا مؤقف ہے کہ جموں کشمیر اور لداخ بھارت کا حصہ ہیں اور اس نے حالیہ قرارداد کی حمایت کے بعد بھی یہی مؤقف برقرار رکھا ہے۔ پاکستان دوسری طرف جموں کشمیر کو متنازع مسئلہ سمجھتا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن کشمیری عوام کے لیے دونوں مؤقفوں کے درمیان ایک تیسرا اور بنیادی سوال موجود ہے کہ اگر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہے تو اس فیصلے میں خود کشمیری عوام کی آزادانہ رائے کہاں ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں حالیہ قرارداد ایک سیاسی موقع فراہم کرتی ہے۔
اسے جموں کشمیر پر نئی اقوام متحدہ کی قرارداد کہنا غلط ہوگا، لیکن اسے دنیا کے سامنے ایک بنیادی سوال اٹھانے کے موقع کے طور پر ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دنیا نے یہ اصول تسلیم کیا ہے کہ نقشہ حقیقت کی زیادہ درست نمائندگی کرے۔ اب کشمیری عوام یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ سیاسی حقیقت کی درست نمائندگی کب ہوگی؟ اگر جغرافیائی غلطی کو درست کرنا ضروری ہے تو کیا سیاسی اور انسانی حقیقت کو درست طور پر پیش کرنا بھی ضروری نہیں؟ اگر کسی خطے کے رقبے کی غلط نمائندگی عالمی سطح پر ناانصافی سمجھی جا سکتی ہے تو پھر کسی خطے کے عوام کی سیاسی خواہش کو نظرانداز کرنا کس طرح انصاف قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہاں سے جموں کشمیر کا مسئلہ محض بھارت اور پاکستان کے باہمی تنازع سے نکل کر انسانی حقوق، جمہوریت اور حقِ خودارادیت کے سوال میں تبدیل ہوتا ہے۔
ریاست جموں کشمیر کے عوام نے اپنی ریاست کو ہمیشہ ایک مکمل سیاسی وحدت کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کے لیے حد بندی لکیر ایک ایسی لکیر ہے جس نے خاندانوں، علاقوں اور معاشروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ اس لکیر کے دونوں جانب بڑی تعداد میں فوجیں اور مسلح فورسز موجود ہیں، بھاری ہتھیار موجود ہیں، مسلسل کشیدگی کی تاریخ موجود ہے اور عام شہری کئی دہائیوں سے اس تنازع کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جموں کشمیر کی انسانی صورت حال کو یک طرفہ انداز میں پیش نہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ماضی میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر دونوں میں انسانی حقوق کے مسائل کا جائزہ لیا ہے، اگرچہ اس نے دونوں جانب مسائل کی نوعیت اور شدت میں فرق بھی بیان کیا۔ اس اصول کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ انسانی حقوق کا معیار کسی سرحد یا جھنڈے سے تبدیل نہیں ہوتا۔ جہاں بھی انسان کے بنیادی حقوق پامال ہوں، وہاں آواز اٹھنی چاہیے۔
بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں شہری آزادیوں، گرفتاریوں، طاقت کے استعمال، آزادیِ اظہار اور دیگر انسانی حقوق کے معاملات پر عالمی سطح پر تشویش سامنے آتی رہی ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی سیاسی آزادی، اظہارِ رائے، احتجاج اور عوامی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عوامی احتجاج کے دوران ہلاکتوں، گرفتاریوں اور مواصلاتی پابندیوں کے واقعات نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ جموں کشمیر کا انسانی مسئلہ صرف ایک طرف کا مسئلہ نہیں ہے۔
یہاں کشمیری عوام کے لیے ایک اصولی راستہ موجود ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے خلاف بھی اسی شدت سے آواز أٹھائیں جس شدت سے وہ بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں پر بھی اسی طرح بولیں جس طرح بھارتی زیر انتظام کشمیر کے مسائل پر بولتے ہیں۔یہی اصولی طرزِ عمل کشمیری آواز کو عالمی سطح پر زیادہ معتبر بنا سکتا ہے۔کیونکہ دنیا یہ نہیں دیکھتی کہ کون کس کے خلاف بول رہا ہے؛ دنیا یہ دیکھتی ہے کہ کون اصول کے لیے بول رہا ہے۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں اوورسیز کشمیریوں کی ذمہ داری غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔
ریاست جموں کشمیر کے اندر رہنے والے لوگ ایک پیچیدہ اور حساس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جب ایک طرف بھاری تعداد میں مسلح فورسز موجود ہوں، جب سیاسی اختلاف کو بعض اوقات سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جائے، جب احتجاج کے نتیجے میں گرفتاری، تشدد یا جانی نقصان کا خطرہ موجود ہو، تو عام شہری کے لیے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں آزادانہ آواز اٹھانا آسان نہیں رہتا۔
ایسے حالات میں بیرونِ ریاست آباد کشمیریوں کی حیثیت محض تارکین وطن کی نہیں رہتی بلکہ وہ اپنے وطن کے ان لوگوں کی آواز بن سکتے ہیں جو شاید خود وہ بات پوری آزادی سے نہ کہہ سکیں۔
دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد، جن کی تعداد مختلف اندازوں میں تقریباً بیس سے بائیس لاکھ تک بیان کی جاتی ہے، ایک غیر معمولی انسانی، سیاسی اور سفارتی قوت بن سکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس قوت کو صرف مظاہروں، نعروں اور جذباتی تقریروں تک محدود نہ رکھا جائے۔اوورسیز کشمیریوں کو اپنی قوت کو ایک منظم، پرامن، جمہوری، قانونی اور دستاویزی عالمی مہم میں تبدیل کرنا ہوگا۔
برطانیہ، یورپ، امریکہ، کینیڈا اور دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک میں آباد کشمیریوں کے پاس وہ مواقع موجود ہیں جو ریاست کے اندر موجود ہر کشمیری کو حاصل نہیں۔ وہ اپنے ارکانِ پارلیمان سے ملاقات کر سکتے ہیں، پارلیمانی سوالات اٹھوا سکتے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کر سکتے ہیں، جامعات اور تحقیقی اداروں میں سیمینار کر سکتے ہیں، اخبارات اور ذرائع ابلاغ میں مضامین شائع کرا سکتے ہیں،دستاویزی رپورٹس تیار کر سکتے ہیں، یورپی اور برطانوی اداروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور عالمی رائے عامہ کو متاثر کر سکتے ہیں۔لیکن اس کے لیے سب سے پہلے کشمیری بیانیے کو تبدیل کرنا ہوگا۔
دنیا کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’جموں کشمیر ہمارا ہے‘‘۔دنیا کو یہ واضح بتانا ہوگا کہ ’’جموں کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کے بارے میں کیا چاہتے ہیں؟‘‘
یہ ایک بنیادی فرق ہے۔پہلا جملہ ملکیت کا دعویٰ ہے۔
دوسرا جملہ عوام کے حق کا سوال ہے۔اور عالمی انسانی حقوق کی زبان میں دوسرا سوال کہیں زیادہ مؤثر ہے۔
اوورسیز کشمیریوں کو اپنی مہم کا مرکز انسانی حقوق، سیاسی آزادی، آزادیِ اظہار، پرامن اجتماع، آزاد صحافت اور حقِ خودارادیت کو بنانا ہوگا۔ انہیں دنیا کو یہ سمجھانا ہوگا کہ کشمیری عوام کسی دوسرے ملک کے عوام کے خلاف جنگ نہیں چاہتے، کسی قوم سے نفرت نہیں چاہتے، بلکہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق چاہتے ہیں۔یہی وہ زبان ہے جو جمہوری دنیا سمجھتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اوورسیز کشمیریوں کو اپنی مہم کو جذباتی نعروں سے نکال کر ثبوت اور تحقیق کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص گرفتار ہوا ہے تو اس کی گرفتاری کی تاریخ، مقام اور قانونی حیثیت معلوم ہونی چاہیے۔ اگر کسی انسان کی جان گئی ہے تو اس کی شناخت، مقام، تاریخ اور واقعے کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہونے چاہئیں۔ اگر کسی صحافی کو روکا گیا ہے تو اس کے بارے میں مستند معلومات فراہم کی جائیں۔ اگر انٹرنیٹ بند کیا گیا ہے تو اس کی تاریخ اور مدت دستاویزی شکل میں سامنے لائی جائے۔کیونکہ جذبات ہمدردی پیدا کر سکتے ہیں، مگر عالمی پالیسی ثبوت، تحقیق اور تسلسل سے بنتی ہے۔یہاں پاکستان کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔
پاکستان نے تاریخی طور پر جموں کشمیر کو ایک متنازع مسئلہ تسلیم کیا ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ لیکن اگر پاکستان واقعی یہ اصول تسلیم کرتا ہے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے تو پھر یہ اصول صرف بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کے لیے بھی ہونا چاہیے۔پاکستان کو اپنے زیر انتظام علاقوں میں سیاسی آزادی، آزادیِ اظہار، آزاد صحافت، پرامن اجتماع، سیاسی سرگرمی، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا ہوگا۔
پاکستان کے لیے دنیا کے سامنے سب سے مضبوط مؤقف یہی ہوگا کہ وہ کہے کہ جس حق کا مطالبہ وہ بھارتی زیر انتظام کشمیریوں کے لیے کرتا ہے، وہی حق پاکستان کے زیر انتظام کشمیریوں کو بھی حاصل ہے۔یہ اصول پاکستان کے مؤقف کو کمزور نہیں کرے گا بلکہ اسے زیادہ مضبوط کرے گا۔اسی طرح بھارت کی ذمہ داری بھی واضح ہے۔
اگر بھارت خود جغرافیائی حقیقت کی درست نمائندگی، علاقائی سالمیت اور نقشے کی درستگی کے اصول کی حمایت کرتا ہے تو اسے جموں کشمیر میں بھی انسانی حقوق اور سیاسی آزادی کے سوالات کا سامنا اسی جمہوری معیار کے مطابق کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے کو محض سلامتی کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے سیاسی مکالمے کے لیے جگہ پیدا کرنا، انسانی حقوق کے عالمی معیار کا احترام کرنا، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو کام کرنے دینا اور پرامن سیاسی اظہار کے حق کو تحفظ دینا ضروری ہے۔
بھارت یہ کہہ سکتا ہے کہ جموں کشمیر اس کا حصہ ہے، پاکستان یہ کہہ سکتا ہے کہ جموں کشمیر اس کا حصہ ہے، لیکن ایک جمہوری اصول دونوں پر یکساں لاگو ہونا چاہیے کہ عام شہری کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں رائے رکھنے اور اسے پرامن طریقے سے بیان کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
اقوام متحدہ نے جموں کشمیر کے معاملے کو اپنے تاریخی ریکارڈ میں جگہ دی ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں، جموں کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی دستاویزات موجود ہیں اور انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹس بھی موجود ہیں۔ اس لیے اقوام متحدہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ جموں کشمیر محض ایک بھولا ہوا تاریخی مسئلہ ہے۔
اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلے کو نظرانداز نہ کرے، انسانی حقوق کی صورت حال پر آزادانہ توجہ رکھے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے، انسانی حقوق کی نگرانی کے لیے مؤثر رسائی کی حمایت کرے اور ایسے حالات پیدا کرنے میں مدد دے جن میں جموں کشمیر کے عوام اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں خوف اور جبر کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔حقِ خودارادیت صرف ایک خوبصورت اصطلاح نہیں۔ اگر عوام کو آزادانہ رائے دینے کی اجازت ہی نہ ہو تو حقِ خودارادیت کا عملی مفہوم ختم ہو جاتا ہے۔
یورپی یونین کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔یورپی یونین دنیا میں انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کو اپنی بنیادی اقدار قرار دیتی ہے۔ اس لیے جموں کشمیر میں بھی اسے ایک ہی معیار اپنانا چاہیے۔ اسے بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ اپنے سیاسی اور تجارتی تعلقات میں انسانی حقوق، سیاسی آزادی اور پرامن سیاسی عمل کے سوال کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
یورپی پارلیمنٹ اور یورپی ادارے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بحث کو زندہ رکھ سکتے ہیں، انسانی حقوق کے اداروں اور آزاد ذرائع کی رپورٹس کو اہمیت دے سکتے ہیں اور بھارت و پاکستان دونوں کو پرامن سیاسی حل، انسانی حقوق اور کشمیری عوام کی سیاسی خواہشات کے احترام کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ کسی ایک ملک کا مقدمہ لڑنے کے بجائے انسان کا مقدمہ لڑیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا دفتر اور دیگر معتبر ادارے دونوں جانب انسانی حقوق کی صورتحال کی غیر جانب دارانہ نگرانی کریں، سیاسی قیدیوں، گرفتاریوں، تشدد، جبری گمشدگیوں، شہری ہلاکتوں، آزادیِ اظہار، صحافت، پرامن اجتماع اور مواصلاتی پابندیوں کے بارے میں قابلِ تصدیق دستاویزات تیار کریں اور ان کی بنیاد پر حکومتوں کو جواب دہ بنائیں۔
عالمی میڈیا کی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ جموں کشمیر کو صرف اس وقت خبر نہ بنائے جب بھارت اور پاکستان جنگ کے قریب پہنچ جائیں۔ جموں کشمیر صرف میزائل، سرحدی فائرنگ اور فوجی کشیدگی کا نام نہیں۔ جموں کشمیر میں کروڑوں نہیں تو لاکھوں انسان بستے ہیں، ان کے گھر ہیں، بچے ہیں، اسکول ہیں، روزگار ہیں، خواب ہیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں رائے رکھنے کا حق ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو کشمیری عوام کی اپنی آواز کو جگہ دینی چاہیے اور کشمیر کو صرف دو ایٹمی ریاستوں کے درمیان تنازع کے طور پر نہیں بلکہ ایک انسانی، سیاسی اور جمہوری مسئلے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔لیکن یہاں کشمیری قیادت کی اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔
کشمیری سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور تحریکوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حصہ ہے، دشمنی کا نہیں۔ کشمیر کی مختلف سیاسی تحریکوں کے درمیان مستقبل کے حتمی حل پر اختلاف ہو سکتا ہے۔ کوئی مکمل آزادی چاہتا ہے، کوئی خودمختاری، کوئی کسی ملک کے ساتھ الحاق کو ترجیح دے سکتا ہے اور کوئی مختلف سیاسی بندوبست چاہتا ہے۔ لیکن ان تمام اختلافات کے باوجود ایک بنیادی اصول پر اتفاق ممکن ہے کہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بندوق، طاقت، قبضے یا جبر سے نہیں بلکہ عوام کی آزادانہ سیاسی مرضی سے ہونا چاہیے۔
یہ کم از کم مشترکہ اصول کشمیریوں کو دنیا کے سامنے ایک مضبوط اور قابلِ فہم سیاسی زبان دے سکتا ہے۔
اوورسیز کشمیریوں کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے کردار کو بھی ازسرنو متعین کریں۔ ہر سال ایک مظاہرہ، چند تقریریں اور سوشل میڈیا پر چند جذباتی پیغامات کافی نہیں ہوں گے۔ ہر ملک میں مستقل سیاسی رابطہ ہونا چاہیے۔ ہر پارلیمان میں جموں کشمیر کے بارے میں معلوماتی بریفنگ پہنچنی چاہیے۔ ہر انسانی حقوق کے ادارے کے سامنے مستند کیسز پیش کیے جانے چاہئیں۔ ہر صحافی کو دستاویزی مواد فراہم کیا جانا چاہیے۔ جامعات اور تھنک ٹینکس میں تحقیق کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ اور دنیا بھر میں موجود کشمیری تنظیموں کو ایک دوسرے کے مقابل آنے کے بجائے ایک مشترکہ کم از کم انسانی اور جمہوری ایجنڈے پر تعاون کرنا چاہیے۔
اس عالمی مہم کا بنیادی پیغام نہ بھارت مخالف ہونا چاہیے، نہ پاکستان مخالف اور نہ کسی قوم کے خلاف۔ اسے انسان دوست، جمہوری اور اصولی ہونا چاہیے۔
پیغام یہ ہونا چاہیے کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ رائے دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کشمیری عوام اور ان کی قیادت اپنے سیاسی مطالبے کو عالمی انسانی حقوق کے اصولوں سے جوڑیں۔ اگر ایک کشمیری آزادیِ اظہار کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ یہ حق ہر انسان کے لیے تسلیم کرے۔ اگر وہ پرامن احتجاج کا حق مانگتا ہے تو وہ مخالف سیاسی رائے رکھنے والے کے لیے بھی یہی حق تسلیم کرے۔ اگر وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اسے یہ اصول دونوں جانب لاگو کرنا ہوگا۔
یہی اخلاقی برتری کسی بھی قومی تحریک کی اصل طاقت بنتی ہے۔
حالیہ نقشہ سازی کی قرارداد کو بھی اسی حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ جموں کشمیر کے بارے میں کوئی نئی فیصلہ کن قرارداد نہیں، نہ ہی اس نے بھارت کے دعوے کو ختم کیا ہے، نہ پاکستان کے مؤقف کو قانونی طور پر تبدیل کیا ہے، نہ ہی اس نے ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن اس نے دنیا کو یہ بحث ضرور دی ہے کہ نقشہ محض کاغذ پر بنی ہوئی لکیروں کا نام نہیں، بلکہ دنیا کو حقیقت کے بارے میں سمجھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔اگر نقشہ غلط ہو تو اسے درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تو پھر کشمیری عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر دنیا جغرافیائی نمائندگی کی درستگی کو اہم سمجھتی ہے تو کیا سیاسی نمائندگی کی درستگی بھی اہم نہیں؟ اگر کسی خطے کے حقیقی رقبے کو درست طور پر دکھانا ضروری ہے تو کیا اس خطے کے حقیقی باشندوں کی سیاسی خواہش کو درست طور پر سننا بھی ضروری نہیں؟
اور اگر بھارت خود یہ کہتا ہے کہ حالیہ قرارداد کسی متنازع خطے کی قانونی حیثیت طے نہیں کرتی، تو پھر یہی اصول جموں کشمیر پر بھی لاگو ہونا چاہیے کہ کسی نقشے میں کسی علاقے کو کسی ریاست کے رنگ میں دکھا دینا بذاتِ خود اس خطے کی حتمی سیاسی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔
یہاں سے کشمیری عوام کی امید پیدا ہوتی ہے، لیکن یہ امید حقیقت پسندانہ ہونی چاہیے۔یہ امید اس بات کی نہیں کہ ایک قرارداد نے کشمیر آزاد کر دیا۔
یہ امید اس بات کی ہونی چاہیے کہ جموں کشمیر کا بنیادی سوال ابھی زندہ ہے، اور اسے دوبارہ دنیا کے سامنے زیادہ مضبوط، زیادہ مہذب، زیادہ دستاویزی اور زیادہ اصولی انداز میں رکھا جا سکتا ہے۔
جموں کشمیر کا مسئلہ کسی ایک قرارداد سے حل نہیں ہوگا۔ نہ بھارت کے کسی ایک بیان سے، نہ پاکستان کے کسی ایک اعلان سے، نہ کسی ایک احتجاج سے اور نہ کسی ایک عالمی کانفرنس سے۔اس کے لیے ایک طویل المدت سیاسی، انسانی حقوق، سفارتی، قانونی اور عوامی جدوجہد درکار ہوگی۔
اور اس جدوجہد میں سب سے اہم کردار شاید ان کشمیریوں کا ہو سکتا ہے جو ریاست سے باہر رہتے ہیں۔کیونکہ ریاست کے اندر رہنے والا کشمیری شاید بندوق کے سامنے اپنی آواز پوری قوت سے بلند نہ کر سکے، مگر بیرونِ ریاست کشمیری کے پاس وہ آزادی موجود ہے کہ وہ برطانوی پارلیمان، یورپی پارلیمان، امریکی کانگریس، کینیڈین پارلیمان، انسانی حقوق کے اداروں، جامعات، ذرائع ابلاغ اور عالمی سول سوسائٹی تک پہنچ سکے۔
یہ ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔
بیس بائیس لاکھ اوورسیز کشمیری اگر منظم ہو جائیں، اگر وہ اپنی جماعتی اور شخصی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کم از کم انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کے ایجنڈے پر متحد ہو جائیں، اگر وہ جذباتی نعروں کے بجائے ثبوت اور تحقیق کے ساتھ دنیا کے سامنے جائیں، اگر وہ بھارت اور پاکستان دونوں کے سامنے ایک ہی انسانی حقوق کا معیار رکھیں، اگر وہ جھوٹی خبروں سے خود کو دور رکھیں اور اگر وہ اپنی مہم کو مستقل سفارتی اور سیاسی رابطے میں تبدیل کر دیں تو جموں کشمیر کی آواز کو عالمی سیاست میں ایک نئی قوت ضرور مل سکتی ہے۔دنیا کو مجبور کرنے کا مطلب دنیا کو دباؤ میں لانا نہیں بلکہ دنیا کو قائل کرنا ہے۔
اور قائل کرنے کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار بندوق نہیں، دلیل ہے؛ سب سے مؤثر ذریعہ نفرت نہیں، انسانی حقوق ہیں؛ سب سے مضبوط زبان دھمکی نہیں، جمہوریت ہے؛ اور سب سے معتبر دلیل جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔آخرکار سوال پھر وہی رہتا ہے کہ نقشے درست کیے جا سکتے ہیں، سرحدیں کھینچی جا سکتی ہیں، فوجیں علاقے سنبھال سکتی ہیں، حکومتیں اپنے آئین میں دعوے لکھ سکتی ہیں، لیکن کسی خطے کے عوام کے دل و دماغ کو کسی نقشے کے رنگ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اور ریاست جموں کشمیر کے عوام کے سامنے آج بھی بنیادی سوال موجود ہے کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کون کرے گا؟بھارت؟پاکستان؟یا خود ریاست جموں کشمیر کے عوام؟
اگر جواب بھارت ہے تو کشمیری عوام کا سوال باقی رہتا ہے۔اگر جواب پاکستان ہے تو کشمیری عوام کا سوال پھر بھی باقی رہتا ہے۔لیکن اگر جواب یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ، غیر جابرانہ اور جمہوری انداز میں فیصلہ کرنے کا حق ہونا چاہیے، تو پھر دنیا کے ہر جمہوری اور انسانی حقوق کے دعوے دار ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرے جس میں یہ حق محض ایک نعرہ نہ رہے بلکہ ایک قابلِ عمل سیاسی حقیقت بن سکے۔
حالیہ نقشہ سازی کی قرارداد نےجموں کشمیر کا فیصلہ نہیں کیا، لیکن اس نے ایک ایسا سوال ضرور دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں کہ اگر دنیا نقشہ درست کر سکتی ہے تو کیا دنیا تاریخ، سیاست اور انصاف کے ان سوالات کو بھی درست کرنے کی کوشش کرے گی جنہیں آٹھ دہائیوں سے حل نہیں کیا جا سکا؟اور شاید اس سوال کا سب سے مضبوط جواب وہ لاکھوں اوورسیز کشمیری دے سکتے ہیں جو آزاد دنیا میں رہتے ہوئے اپنے وطن کے ان لوگوں کی آواز بن سکتے ہیں جن کی آواز آج بھی لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بندوقوں کے سائے، سیاسی دباؤ اور خوف کے درمیان دب جاتی ہے۔
جموں کشمیر کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ زمین کس کے قبضے میں ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مستقبل کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔اور اگر جمہوریت، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت واقعی عالمی اصول ہیں تو پھر ان اصولوں کا امتحان بھی وہیں ہوگا جہاں عوام کی آواز سب سے زیادہ دبائی گئی ہو۔ریاست جموں کشمیر شاید آج بھی نقشے پر تقسیم دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے عوام کا بنیادی سوال تقسیم نہیں ہوا۔وہ آج بھی وہی ہے۔ کہ ہماری ریاست ،ہماری سرزمین ہماری ملکیت کے بارے میں فیصلہ آخر ہماری مرضی کے بغیر کیوں ہو؟اور ہمیں خود اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کاتسلیم شدہ حق کب ملے گا؟
٭٭٭
Share this content:


