پاکستانی فورسزکا شوکت نواز میر کی گرفتاری سے انکار، ہائی کورٹ میں سماعت 23 ستمبر تک ملتوی

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (AJK) میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو 3 ماہ قبل سرِعام حراست میں لیے جانے کے بعد اب پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان کی گرفتاری سے مکمل انکار کیا جا رہا ہے، جس پر وکلاء اور سول سوسائٹی میں شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے۔

شوکت نواز میر کو آج پھر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ایس ایس پی مظفرآباد اور ایڈووکیٹ جنرل نے اپنے بیانات قلمبند کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شوکت نواز میر پولیس کی تحویل میں نہیں ہیں، بلکہ ان کے خلاف 17 مقدمات درج ہیں اور وہ خود روپوش ہیں۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 ستمبر 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوں۔

یاد رہے کہ 3 ماہ قبل شوکت نواز میر کو پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے سرِعام حراست میں لیا تھا۔

اس وقت ڈپٹی کمشنر مظفرآباد (منیر قریشی) نے صحافی نصیر چوہدری سے بات کرتے ہوئے خود تصدیق کی تھی کہ شوکت نواز میر کو مظفرآباد اور باغ کی درمیانی حدود سے گرفتار کیا گیا ہے۔

سابقہ ریکارڈ کے مطابق ایس ایس پی مظفرآباد (ریاض مغل) کا بھی بیان سامنے آیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔

سرکاری حکام کے ان سابقہ اعترافات کے باوجود، اب عدالت کے سامنے گرفتاری سے صاف مکر جانا ریاست اور اس کے اداروں کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں اور حقوقِ انسانی کے فعال کارکنوں کے مطابق AJK میں اب وہی وطیرہ اپنایا جا رہا ہے جو دہائیوں سے بلوچستان میں جاری ہے۔

بلوچستان میں بھی سیکیورٹی فورسز اور خفیہ ادارے شہریوں کو گھروں اور شاہراہوں سے اٹھا کر جبری لاپتہ کر دیتے ہیں، جبکہ پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیتی ہے اور حکام میڈیا کے سامنے مکمل لاعلمی کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔

حکومتِ کشمیر کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد سے بنیادی انسانی و جمہوری حقوق کی پامالیوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مظفرآباد میں وکلاء برادری اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان اس ریاستی جبر کے خلاف سخت سراپا احتجاج ہیں۔

Share this content: