اسامہ بن لادن کی حمایت پرپاکستانی مذہبی رہنما طاہراشرفی سے برطانوی اعزاز واپس

آرچ بشپ آف کینٹربری (لیمبتھ پیلس) نے پاکستانی مذہبی رہنما اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو بین المذاہب ہم آہنگی اور رواداری کے اعتراف میں دیا گیا برطانیہ کا اعلیٰ اعزاز واپس لے لیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں 11 ستمبر 2026 کو 9/11 حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر ڈیم سارہ ملالی نے پیش کیا تھا۔

لیمبتھ پیلس کو اس وقت شدید عوامی و صحافتی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب طاہر اشرفی کے 2007 کے وہ بیانات منظرِ عام پر آئے جن میں انہوں نے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ‘اسلام کا مجاہد’ اور ‘سیف اللہ’ (اللہ کی تلوار) کا لقب دیا تھا اور سر سلمان رشدی کے ساتھ ان کا موازنہ کر کے ان کے اقدامات کا دفاع کیا تھا۔

ناقدین اور ہیومن رائٹس واچ کا موقف ہے کہ طاہر اشرفی پاکستان کے متنازع توہینِ مذہب قوانین کے سخت حامی ہیں، جو اکثر اقلیتوں (مسیحی و احمدی) کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ اگرچہ 2012 کے رمشا مسیح کیس میں ان کے کردار کو سراہا گیا تھا، لیکن ان کا یہ مؤقف کہ یہ قوانین ‘جانیں بچاتے ہیں’ انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا۔

طاہر اشرفی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور یہ ان کے خلاف ایک ‘غیر منصفانہ مہم’ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2007 کے بیانات سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ دیے جانے کے خلاف مسلمانوں کے غصے کا اظہار تھے۔

برطانیہ کی ’نیشنل سیکولر سوسائٹی‘، مختلف صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ایوارڈ کی واپسی کا خیرمقدم تو کیا لیکن 11 ستمبر کی برسی پر انہیں اعزاز دینے کے عمل پر سخت سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب، پاکستانی صحافیوں نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے طاہر اشرفی کو ہر دورِ حکومت اور ‘سسٹم’ کا پسندیدہ کردار قرار دیا۔

Share this content: