ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے سیاسی مشیر محمد باقر ذوالقدر کا کہنا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں ہیں ان کا ملک آبنائے ہرمز کو کھولنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کی جانب سے جمعرات کو شائع کیے گئے ایک بیان میں ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قوم نے جارح دشمن کی طاقت توڑنے اور متکبر قوتوں کی کمر توڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نےتن یاہو کو اقتدار سے نہیں ہٹا دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایرانی قوم کے انتقام کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق ایک طرف جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ یا مذاکرات کے حوالے سے بار بار اور بعض اوقات متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں وہیں ایران کے اندر بھی اس بات پر اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کے ساتھ فوجی محاذ آرائی جاری رکھی جائے یا مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔
ملک کی بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات بشمول صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف امریکہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرے اور اسے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر تسلیم کرے۔ دوسری جانب سخت گیر شخصیات، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر بھی شامل ہیں، جنگ جاری رکھنے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کو امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی قرار دے رہی ہیں۔
دریں اثنا، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اقتصادی پابندیوں اور ایران کی جنوبی بندرگاہوں کے بحری محاصرے نے ملک کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں کمی نے عوام کے معاشی مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
Share this content:


