امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ’سی این این‘، ’ایم ایس ناؤ‘، اور ’پولیٹیکو‘ نامی خبر رساں اداروں کو فوری طور پر وائٹ ہاؤس سے ’بین‘ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ میڈیا ادارے ان کی انتظامیہ (ٹرمپ انتظامیہ) کے بارے میں ’مسلسل افسانے اور جھوٹی خبریں‘ شائع یا نشر کرتے ہیں،‘ تاہم انھوں نے اس کی کوئی مثال نہیں دی۔
ٹرمپ نے بعد میں اسے ’بہت سادہ پابندی‘ قرار دیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پابندی کیسے عائد کی جائے گی یا ان اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکا جائے گا یا نہیں۔ اعلان کے کچھ دیر بعد بھی سی این این اور پولیٹیکو کے نامہ نگار وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔
امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے ممکنہ پابندی کو امریکی آئین میں دی گئی آزادیٔ صحافت پر ’غیر قانونی حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس کی رپورٹنگ میں رکاوٹ ڈالنے کا حق نہیں۔
پولیٹیکو نے بھی کہا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور دفاع کرے گا۔ تاہم ’ایم ایس ناؤ‘ جو پہلے ’ایم ایس این بی سی‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، نے تبصرے سے انکار کیا۔
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر جیکی ہینرچ نے کہا کہ ’صحافیوں کو ان کا کام کرنے پر نشانہ بنانا قابلِ دفاع نہیں۔‘ ان کے مطابق معاملہ صرف صحافیوں کے حقوق کا نہیں بلکہ امریکی عوام کے اس حق کا بھی ہے کہ انھیں صدر اور حکومت کی سرگرمیوں، پالیسیوں اور فیصلوں سے متعلق مکمل اور آزاد معلومات مل سکیں۔
اس سے قبل فروری 2025 میں وائٹ ہاؤس نے ایسوسی ایٹڈ پریس یعنی ’اے اپی‘ کے رپورٹرز کو بعض تقریبات میں داخلے سے روک دیا تھا۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب اے اپی کی جانب سے ٹرمپ کے حکم کے باوجود اپنی رپورٹنگ میں ’گلف آف میکسیکو‘ کا نام تبدیل کرکے ’گلف آف امریکہ‘ لکھنے سے انکار کیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں سنہ 2018 میں سی این این کے صحافی جم ایکوسٹا کی وائٹ ہاؤس پریس کریڈینشل بھی منسوخ کر دی تھی، اگرچہ یہ پورے سی این این پر پابندی نہیں تھی بلکہ ایک مخصوص صحافی کی رسائی کا معاملہ تھا۔
Share this content:


