بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سرگرم و متحرک تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے اپنے ایک جاری بیا ن میں کہا ہے کہ تنظیم کو لواحقین کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے کہ حسن رفیق، احسان حسن اور نادل بلوچ، جو پہلے سے جبری طور پر لاپتہ تھے، کی لاشیں گوادر کے علاقے ڈنک، کلدان سے برآمد ہوئی ہیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تینوں نوجونوں کو دورانِ حراست ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ وی بی ایم پی نے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف، غیر جانب دار اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
لواحقین کے مطابق حسن رفیق کو 24 اگست 2026 کو تربت جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا تھا، تاہم رہائی کے فوراً بعد انہیں جیل کے باہر سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لے کر مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کردیا، جس کے بعد ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
احسان حسن کو ان کے بھائی بالاچ حسن کے ہمراہ 22 جنوری 2026 کو گوادر کے علاقے جیوانی، تل سر میں واقع ان کے آبائی گھر پر چھاپے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
اسی طرح نادل بلوچ، سکنہ پنوان، گوادر، کو لواحقین کے مطابق 19 اپریل 2026 کو تقریباً رات 1:30 بجے سیکیورٹی فورسز نے ان کے گھر پر چھاپے کے دوران حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔
وی بی ایم پی کے مطابق اگر ان افراد پر کسی جرم کا الزام تھا تو انہیں ملکی قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے شفاف قانونی کارروائی کا سامنا کروایا جانا چاہیے تھا۔ قانون کسی بھی فرد یا ادارے کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ کسی زیرِ حراست شخص کو ماورائے قانونی طریقے سے ہلاک کیا جائے یا اس کی لاش کو ویرانے میں پھینک دیا جائے۔ جبری گمشدگی، غیر قانونی حراست اور دورانِ حراست ہلاکت کے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔
وی بی ایم پی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عدلیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ایک آزاد، غیر جانب دار، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا آغاز کریں۔ تحقیقات کے دوران تمام متعلقہ ریکارڈ، حراست سے متعلق دستاویزات، فرانزک شواہد اور دیگر دستیاب ثبوت محفوظ کیے جائیں، اور زمہ داروں کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
وی بی ایم پی مزید مطالبہ کرتا ہے کہ تحقیقات کے نتائج عوام اور متاثرہ خاندانوں کے سامنے لائے جائیں، لواحقین کو واقعے کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں انصاف اور قانونی ازالہ دیا جائے۔ ریاستی ادارے آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں جبری گمشدگیوں، غیر قانونی حراست اور کسی بھی ممکنہ ماورائے آئین یا ماورائے عدالت کارروائی کے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
وی بی ایم پی کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص پر جرم کا الزام ہو، اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرنا اور شفاف عدالتی عمل کے ذریعے فیصلہ کرنا ہی آئینی و قانونی راستہ ہے۔
Share this content:


