شوکت نواز میر کی سرِعام گرفتاری کو ‘خودساختہ لاپتہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش

پاکستان کے زیر انتظام کے دارلحکومت مظفرآباد کی پولیس کے ایس ایچ او منظر حسین چغتائی کی جانب سے جاری کردہ "اشتہار شور و غوغا” (مورخہ 06 جولائی 2026) نے ریاست کا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کو تقریباً 3 ماہ قبل (05 جون 2026) پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے دن دہاڑے سرِعام حراست میں لیا تھا، جس کے باقاعدہ ویڈیو شواہد موجود ہیں۔

3 ماہ تک غیر قانونی تحویل میں رکھنے اور جبری لاپتہ کرنے کے بعد، اب مظفرآباد پولیس نے ان کی بہن (مسماۃ یاسمین میر) کا نام استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی بچکانہ کوشش کی ہے کہ شوکت نواز میر فورسز کے پاس نہیں بلکہ ‘خودساختہ’ طور پر کہیں غائب ہو گئے ہیں۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کو چھپانے، جعلی اشتہارات اور خاندانوں سے زبردستی بیانات دلوانے کا جو گھسا پھٹا ڈرامہ عرصے سے چل رہا ہے، اب وہی فلاپ فارمولا پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں بھی آزمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام فورسز اور ایجنسیوں کی اس طرح کی ڈرامے بازیوں اور حراستی حقیقت سے مکمل باخبر ہیں۔

شوکت نواز میر کی فورسز کی تحویل سے فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنایا جائے!

Share this content: