گلگت بلتستان : سپریم اپیلیٹ کورٹ نے جی بی اے 16 دیامر کے امام مالک کی اپیل خارج کردی

گلگت/ کاشگل نیوز

سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان نے حلقہ GBA-16 دیامر-II کے انتخابی تنازع سے متعلق امام مالک بنام عطا اللہ و دیگر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے امام مالک کی جانب سے دائر انتخابی اپیل خارج کردی۔

عدالت نے الیکشن ٹریبونل گلگت بلتستان کو ہدایت کی ہے کہ فریقین کے اعتراضات سن کر قانون کے مطابق کارروائی مکمل کی جائے اور حتمی نتیجے کے اجرا کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ یہ فیصلہ 18 ستمبر 2026 کو رپورٹ ہوا۔

مذکورہ انتخابی اپیل الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 155 کے تحت دائر کی گئی تھی، جس میں امام مالک نے الیکشن ٹریبونل گلگت بلتستان کے 11 ستمبر 2026ء کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2026ء کے عام انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر کے فارم-47 کے تحت امام مالک نے 6,320 ووٹ جبکہ عطا اللہ نے 6,296 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پوسٹل بیلٹ پیپرز کو حتمی گنتی میں شامل کیے بغیر عارضی مجموعی نتیجہ مرتب کیا گیا، جس کے تحت 19 جون 2026ء کو امام مالک کو کامیاب قرار دیا گیا۔

بعد ازاں عطا اللہ نے انتخابی نتیجے کے خلاف الیکشن ٹریبونل سے رجوع کیا۔ ٹریبونل نے 11 ستمبر کو متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو ہدایت کی کہ تمام پوسٹل بیلٹ پیپرز کی قانون کے مطابق جانچ پڑتال اور گنتی کرکے انہیں حتمی مجموعی نتیجے میں شامل کیا جائے اور فارم-49 کی صورت میں نتیجہ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو بھجوایا جائے۔

سپریم اپیلیٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعہ 95 اور الیکشن رولز 2017ء کے رول 85 کے تحت پوسٹل بیلٹ پیپرز کی مکمل گنتی اور تصدیق کے بغیر جاری کیا گیا عارضی مجموعی نتیجہ قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ الیکشن ٹریبونل کی ہدایت پر ایک سینئر سول جج کو ریٹرننگ آفیسر کی معاونت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، جن کی موجودگی میں پوسٹل بیلٹ پیپرز کی گنتی اور جانچ کا عمل مکمل کیا گیا۔

سینئر سول جج کے بیان کے مطابق بیلٹ باکس اور اس پر موجود کپڑے کی مہریں درست حالت میں تھیں، امیدواروں کے دستخط موجود تھے، پوسٹل بیلٹ پیپرز کے لفافے سیل شدہ تھے اور کوئی لفافہ کھلا ہوا نہیں پایا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر پوسٹل بیلٹ پیپرز یا بیلٹ باکس میں توڑ پھوڑ اور مہروں کے ٹوٹنے سے متعلق امام مالک کا مؤقف ثابت نہیں ہوتا۔

تاہم عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ٹریبونل نے تاحال حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا۔ سپریم اپیلیٹ کورٹ نے ٹریبونل کو ہدایت کی کہ مناسب تاریخ مقرر کرکے دونوں فریقین کو طلب کیا جائے، اگر کسی فریق کا کوئی حقیقی اعتراض باقی ہو تو اسے قانون کے مطابق دور کیا جائے اور اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کو حتمی نتیجہ جاری کرنے کے لیے ضروری ہدایات دی جائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ ان ہدایات کی روشنی میں زیرِ سماعت انتخابی اپیل میں کوئی مؤثر بنیاد باقی نہیں رہتی، لہٰذا امام مالک کی انتخابی اپیل خارج کردی گئی۔

Share this content: