رپورٹ: فرحان طارق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی کارکنوں اور حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے سی) سے وابستہ افراد کے خلاف کارروائیوں کے دوران ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے کارکن صحافی اور ینگ جرنلسٹس فورم باغ کے صدر سردار اویس کی گرفتاری کو تین ماہ مکمل ہوگئے۔
سردار اویس، جو روزنامہ شاداب سے بھی وابستہ ہیں، کو 21 جون 2026 کو مقامی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب وہ اپنے بچوں کے تعلیمی معاملات کے سلسلے میں ایک اسکول میٹنگ میں موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق گرفتاری کے بعد سردار اویس کو متعدد مرتبہ ضلعی فوجداری عدالت میں پیش کیا جا چکا ہے، تاہم ان کے خلاف درج ایف آئی آر کی مکمل نقل تاحال منظر عام پر نہیں آسکی۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سردار اویس پر 2025 میں جے کے جے اے سی کے لانگ مارچ کے دوران چمیاتی، دھیرکوٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں مبینہ طور پر شرکت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
اطلاعات کے مطابق سردار اویس کو اب تک باقاعدہ طور پر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل نہیں کیا گیا، تاہم اس حوالے سے عدالتی دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
ذرائع کے مطابق باغ جیل میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش محدود ہونے کے باعث، جبکہ جیل کی نئی عمارت بھی تاحال زیر تعمیر ہے، سردار اویس سمیت بعض زیرِ حراست افراد کو دھیرکوٹ تھانے میں رکھا گیا ہے اور اسے عارضی سب جیل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
خطے میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کی گرفتاریوں اور حراستوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعدد افراد کو مختلف مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ بعض صحافیوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان تمام ناموں اور کارروائیوں کی مکمل سرکاری تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی تحریکوں کی کوریج کرنے والے کارکن صحافیوں کو قانونی کارروائیوں، گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث صحافتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
صحافتی حلقوں کے مطابق صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران قانونی تحفظ، معلومات تک رسائی اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
مقدمے کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے اور ان کی حراست کی قانونی حیثیت سے متعلق ابہام نے بھی صحافتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
تاہم ان الزامات اور دعوؤں پر حکومت، پولیس اور متعلقہ انتظامیہ کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
Share this content:


