پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع میرپور کی تحصیل ڈڈیال میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کے کور ممبر خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ کے گھر کو ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسمار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔
خواجہ مہران ارشد ایڈووکیٹ کا تعلق ڈڈیال سے ہے اور وہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ جیک کی جانب سے 9 جون کو شروع کیے گئے لانگ مارچ کے دوران ان کی قیادت میں ڈڈیال سے ہزاروں افراد نے مارچ میں شرکت کی تھی۔
خواجہ مہران گزشتہ کئی ماہ سے راولاکوٹ میں جاری جیک کے دھرنے میں موجود ہیں۔ اس سے قبل بھی ریاستی اداروں کی جانب سے انہیں حراست میں لینے کی کوششوں کے دوران ان کے والد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
خواجہ مہران کے گھر کی مسماری کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جیک کے کارکنوں اور حامیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مظاہرین اور مقامی افراد نے واقعے کو احتجاجی تحریک سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تاہم گھر کی مسماری کی وجوہات، اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ یا سکیورٹی اداروں کا باضابطہ مؤقف اور کارروائی کی قانونی بنیاد تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
Share this content:


