شوکت نواز میر کی حراست پر حکومتی انکار اور اہلخانہ کا دعویٰ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاج کے تسلسل میں ’چار اکتوبر کو انتہائی اہم اعلان‘ کیا جائے گا، تاہم اِسی کے بیچ اس کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر کی مبینہ گمشدگی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

شوکت نواز میر کے اہلخانہ کی جانب سے کشمیر ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ایک پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ میر پولیس کی مبینہ غیرقانونی حراست میں ہیں اور یہ کہ اُن کی بازیابی یقینی بنائی جائے، تاہم کشمیر کی حکومت اور محکمہ پولیس نے عدالت میں اہلخانہ کے اس مؤقف کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شوکت میر پولیس یا ریاست جموں کشمیر کے کسی محکمہ کی تحویل میں نہیں ہیں بلکہ روپوش ہیں۔

لگ بھگ تین ماہ قبل، 30 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک اعلامیے میں دعویٰ کیا تھا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل رہی، جس کی بی بی سی اُردو تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

30 جون کو بیشتر مقامی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی حکام کے حوالے سے شوکت رضا میر کی گرفتاری کی خبر کو رپورٹ کیا تھا۔ بی بی سی اُردو سمیت متعدد ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے شوکت میر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

Share this content: