باغ/فرحان طارق
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی تحصیل ریڑہ میں جمعہ کے روز مبینہ طور پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق شہری کی شناخت اثفاق ولد شریف کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق رامی کوٹ سے بتایا گیا ہے۔
مقامی صحافی مراد انور کے مطابق واقعہ جمعہ کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے سی) کی کال پر احتجاج کرنے والے مظاہرین نے ریڑہ بازار کی جانب پیش قدمی کی۔ اس دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر مظاہرین پر فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال باغ کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریباً 26 سالہ ایک شخص کو ہسپتال لایا گیا تھا، جس کے سر پر گولی لگنے کا زخم تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر تحصیل ریڑہ میں گزشتہ چار روز سے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ کمیٹی کے مقامی رہنماؤں نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ نمازِ جمعہ کے بعد ریڑہ بازار میں احتجاج کیا جائے گا۔
مقامی صحافی مراد انور کے مطابق جمعہ کی سہ پہر تین بجے تک سکیورٹی فورسز واپس باغ کی جانب روانہ ہو چکی تھیں، جبکہ مظاہرین جاں بحق شہری کی میت رکھ کر احتجاج کر رہے تھے۔ واقعے کے بعد بین الاضلاعی شاہراہ پر ہر قسم کی ٹریفک تاحال بند ہے
دوسری جانب جے کے جے اے سی کے کور ممبر عابد شاہین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے اور پُرامن شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں، جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم آخری وقت تک لڑیں گے۔‘
آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق عابد شاہین نے کہا کہ احتجاج کی اگلی کال دینے یا اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار تحصیل ریڑہ کی مقامی ایکشن کمیٹی کے پاس ہے۔
واقعے سے متعلق ضلعی انتظامیہ یا ڈسٹرکٹ پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ پریس ریلیز یا مؤقف سامنے نہیں آیا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ فائرنگ کے واقعے پر بھی حکام کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔
Share this content:


