پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں ایک جج کی اغوا اور بازیابی کا ڈرامہ رچھایاجارہا ہے جس کا الزام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا پر لگایاجارہا ہے۔
پولیس نے دعویٰ ہے کہ اس نے ایک کارروائی کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکرم کو بازیاب کرا لیا ہے، جنھیں پولیس کے مطابق کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا تھا۔
راولاکوٹ پولیس کے ایک اہلکار کے دعوے کے مطابق جج کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک آپریشن کے دوران بازیاب کرایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد اکرم راولاکوٹ سے پلندری کے راستے مظفر آباد جا رہے تھے کہ راستے میں مبینہ طور پر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے انھیں گاڑی سمیت اسلحے کے زور پر اغوا کر لیا۔
مقامی پولیس کے مطابق گاڑی میں جج کے ڈرائیور اور گن مین بھی موجود تھے۔
راولاکوٹ پولیس کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کمیٹی کے کارکنوں نے ہسپتال کے باہر فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ کشمیر میں جاری بنیادی حقوق کی عوامی تحریک جموں کشمیر جوائنٹ عوانمی ایکشن کمیٹی جسے حکومت پاکستان نے کالعدم قرار دیا ہے کو اب مکمل کشمیری عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور گذشتہ 4 مہینوں سے زائد راولاکوٹ دیگر شہروں میں دھرنا دیئے بیٹھا ہے اور خواتین و بچے بھی ان دھرنوں کا حصہ ہیں اس کے خلاف سرکاری پرپیگنڈے اب کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔کیونکہ عوام مکمل جان چکی ہے کہ سرکار کس طرح اپنی کنٹرول میڈیا کے ذریعے تحریک کو سبوتاژ اور بدنام کرتی ہے۔
Share this content:


