فرحان طارق
یوں تو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ہو یا خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقے، دونوں ہی پراکسیز اور ریاستی سرپرستی میں چلنے والی جہادی سرگرمیوں کے بڑے مراکز رہے ہیں۔ ریاست کی جانب سے اچھے اور برے مجاہدین کی اصطلاحات بھی دونوں خطوں میں سننے کو ملتی رہی ہیں۔
قبائلی علاقوں کے ملک اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے بڑے قبائل، مثلاً سدھنوں، عباسیوں، جاٹوں، چوہدریوں، مغلوں اور راجاؤں کے ترجمان اور مسیحا کہلوانے والے اکثر حکومتی ایوانوں اور عسکری حلقوں کے لیے مہربان نظر آتے ہیں۔
محسود تحفظ موومنٹ، مقامی ایکشن کمیٹیاں اور پیپلز رائٹس فورم
پی ٹی ایم کے قیام سے قبل، 2013ء میں بے گھر ہونے والے طلبہ نے جنوبی وزیرستان میں نچلی سطح پر ایک تحریک کا آغاز کیا اور محسود قبیلے کے افراد کے لیے جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے منظور پشتین کی زیرِ قیادت محسود تحفظ موومنٹ (ایم ٹی ایم) کے مطالبات میں محسود علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا، قبائلی افراد کی جبری گمشدگیوں کے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات قائم کرنا شامل تھا۔
اسی طرح، 2020ء اور 2021ء کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے مختلف اضلاع میں مقامی سطح پر ایکشن کمیٹیوں اور پیپلز رائٹس فورم جیسی انجمنوں کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں ان کے مطالبات میں مقامی اسکولوں کی عمارتوں اور سڑکوں کی تعمیر جیسے مسائل شامل تھے، لیکن رفتہ رفتہ یہ مطالبات ایک وسیع عوامی حقوق کی تحریک کی شکل اختیار کر گئے۔
نقیب اللہ محسود سے شازیب حبیب تک، راؤ انوار سے لیاقت ملک تک
دنیا کی تاریخ میں دیکھا گیا ہے کہ ریاستوں کی جانب سے ہونے والا جبر و تشدد بعض اوقات تحریکوں کو دبانے کے بجائے انہیں مزید تقویت دیتا ہے۔
جنوری 2018ء کے اوائل میں کراچی میں اندرونِ ملک بے گھر ہونے والے (آئی ڈی پی) نقیب اللہ محسود کو طالبان سے تعلقات کے شبہے میں قتل کر دیا گیا۔ اس ماورائے عدالت قتل کا الزام اُس وقت کے پولیس افسر راؤ انوار پر عائد ہوا۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) بھی راؤ انوار کو اپنے ہزاروں کارکنوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے راؤ انوار کو ان ’’بہادر بچوں‘‘ میں سے ایک قرار دیا تھا جو ایم کیو ایم سے لڑتے ہوئے بچ گئے۔
نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد محسود تحفظ موومنٹ نے بھرپور میڈیا کوریج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب توجہ دلائی۔ نقیب اللہ کے لیے انصاف کے خواہش مند کارکنوں نے ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اہتمام کیا۔ تقریباً تین سو میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے یہ قافلہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں سے گزرا۔ اس دوران اردگرد کے اضلاع سے دیگر پشتون بھی ان کی حمایت میں شامل ہوتے گئے۔
جب یہ قافلہ صوبائی دارالحکومت پشاور پہنچا تو فیصلہ کیا گیا کہ تحریک کا نام محسود تحفظ موومنٹ کے بجائے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) رکھا جائے گا، کیونکہ اس کا مقصد صرف محسود قبیلے نہیں بلکہ تمام پشتونوں کا تحفظ تھا۔ یوں ایک شخص کی قیادت میں شروع ہونے والی تحریک نے پوری پشتون قوم کے حقوق کی آواز بننے کی کوشش کی۔
اسی طرح، 5 اور 6 جون کی درمیانی شب، جب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) کو کالعدم قرار دیا تو اس کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔ جیک کے کور ممبر عمر نذیر کشمیری کو راولاکوٹ سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور کھائی گلہ کے مقام پر مبینہ نقاب پوش افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس سے وہ زخمی ہوئے، جبکہ ان کے قریبی ساتھی شازیب حبیب ہلاک ہو گئے۔
یہ وہ وقت تھا جب خطے بھر میں عوام نے اجتماعی طور پر اپنے غصے کا اظہار کیا، جس سے جیک کی کئی سال سے جاری تحریک کو نئی جان ملی۔
پانچ سال بعد راؤ انوار کو عدالت نے باعزت بری کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مارے جانے والے شخص کا نام نقیب نہیں بلکہ نسیم تھا اور میڈیا پر دکھائی جانے والی تصویر اس شخص کی نہیں تھی۔ ان کے مطابق، مارا جانے والا شخص ایک اشتہاری ملزم تھا جسے 2016ء میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
تقریباً اسی نوعیت کے الفاظ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس نے اُس وقت کہے جب شازیب حبیب کی میت تحویل میں لینے کے معاملے پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کیا گیا۔ جب ایک عالمی نشریاتی ادارے کے رپورٹر نے ان سے دریافت کرنا چاہا کہ اس آپریشن میں کتنے شہری ہلاک ہوئے تو انسپکٹر جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، جبکہ دو اشتہاری ملزمان مارے گئے، جو ریکارڈ یافتہ تھے اور انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ ان کے مطابق، مظاہرین پُرامن نہیں بلکہ ایک جتھہ تھے۔ مزید برآں، وہ شہری ہلاکتوں کے حوالے سے صحافیوں سے ثبوت بھی طلب کرتے رہے۔
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ!تم قتل کرو کہ کرامات کرو
فارن فنڈنگ کے الزامات: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیرِ اعظم پاکستان، زیرِ انتظام کشمیر
26 مئی 2019ء کو شمالی وزیرستان کے علاقے بویا کی ایک چیک پوسٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ محسن داوڑ اور علی وزیر اپنے کارکنوں کے ہمراہ دھرنا دینے جا رہے تھے کہ چیک پوسٹ پر فوجی اہلکاروں سے ان کی جھڑپ ہو گئی۔ اس واقعے میں دونوں جانب سے ہلاکتوں کے متضاد دعوے سامنے آئے۔
واقعے کو چند ماہ گزرے تھے کہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ، جو اس سے قبل پی ٹی ایم کے کارکنوں کو افغان ایجنٹ قرار دیتے رہے تھے، 25 لاکھ روپے کا چیک لے کر پہنچ گئے۔ اس موقع پر یہ تسلیم کیا گیا کہ چیک پوسٹ پر مارے جانے والوں کی تعداد ابتدائی طور پر بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تھی۔
تقریباً اسی نوعیت کے حالات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملے، جہاں مخلوط حکومت کے وزرا نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سائفر لہرا کر دعویٰ کیا کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارت فنڈنگ کر رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سائفر سے متعلق یہ بیانیہ چند دن بھی نہ چل سکا اور خطے کے عوام نے سوشل میڈیا پر اس پر شدید تنقید کی۔
اس کے بعد جیک نے اپنے مطالبات کے حصول کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ ستمبر 2025ء میں جیک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں متعدد پولیس اہلکار اور جیک کے کارکن ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد حکومت نے دوسری مرتبہ جیک کے ہلاک اور زخمی ہونے والے کارکنوں کے لواحقین میں لاکھوں روپے کے چیک تقسیم کیے۔
گویا ایک طرف سرکار تحریک کے کارکنوں کو ایجنٹ اور غدار قرار دے رہی تھی، تو دوسری طرف انہی ہلاکتوں کے ازالے کے طور پر مالی امداد کے چیک بھی تقسیم کیے جا رہے تھے۔
نیشنل چینلز سے سوشل میڈیا تک
نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد محسود تحفظ موومنٹ اور پھر پی ٹی ایم کو پاکستان کے قومی میڈیا پر خاصی کوریج مل رہی تھی، لیکن بعد ازاں پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کو قومی میڈیا پر جگہ ملنا محدود ہو گیا۔ پی ٹی ایم کے اجتماعات اور سرگرمیاں قومی میڈیا پر دکھائی دینا تقریباً بند ہو گئیں۔ اس صورتِ حال میں پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
اس کے برعکس، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو روزِ اول ہی سے قومی میڈیا میں محدود رسائی حاصل رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی پیغام رسانی کا مرکز و محور سوشل میڈیا رہا، جسے ریاست اپنی کوششوں کے باوجود مکمل طور پر روک نہیں پائی۔
مزاحمتی تحریکوں کے قومی نشانات
تاریخ میں بارہا دیکھا گیا ہے کہ بظاہر معمولی دکھائی دینے والی کوئی چیز بعض اوقات قوموں اور تحریکوں کی علامت بن جاتی ہے۔
اسلام آباد میں پی ٹی ایم کے پہلے لانگ مارچ کے دوران ایک کارکن سے پولیس نے پیسے چھین لیے۔ جب منظور پشتین کو اس واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے اس کارکن کی ٹوپی اپنے سر پر رکھ لی۔ سرخ، سفید اور سیاہ رنگوں پر مشتمل یہ ٹوپی اب پشتونوں کی نمائندگی کی علامت بن چکی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی پہلے لانگ مارچ کے دوران، 2024ء میں، پونچھ کے چند نوجوانوں نے مقامی سطح پر پائے جانے والے ایک کانٹے دار درخت، جسے تمبر کہا جاتا ہے، کی چھڑیاں مزاحمت کی علامت کے طور پر اپنے پاس رکھیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ چھڑیاں تحریک کی پہچان بن گئیں۔
24 اور 25 ستمبر 2025ء کو وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تمبر کے ڈنڈے اٹھا کر ریاست کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر موصوف کے ذہن میں شاید تاریخ کے وہ مناظر نہیں تھے جب ڈھاکہ کے ریس کورس گراؤنڈ میں لاکھوں بنگالیوں نے بانس کی ڈنڈیاں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ ڈنڈیاں لڑنے کے لیے نہیں بلکہ مزاحمت کی علامت کے طور پر تھیں، جن کا ذکر صغیر سالک نے اپنی کتاب میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا میں بھی کیا ہے۔
پی ٹی ایم اور جیک کو کالعدم قرار دیا جانا
6 اکتوبر 2024ء کو مسلم لیگ (ن) کے دورِ اقتدار میں حکومت نے ریاست مخالف بیانیے کو جواز بناتے ہوئے پی ٹی ایم پر پابندی عائد کر دی۔ حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی ایم کے تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ روابط ہیں۔
اس کے جواب میں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین اپنے متعدد انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ جب پشتون مارے جا رہے تھے اور وہ طالبان کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے تو ریاست ’’گڈ طالبان، بیڈ طالبان‘‘ کی پالیسی پر عمل پیرا تھی۔ ان کے مطابق، پی ٹی ایم پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور روزِ اول سے طالبانائزیشن کے خلاف ہے۔
اسی طرح، 5 اور 6 جون کی درمیانی شب، جب پاکستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ان جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومت نے جیک کو کالعدم قرار دے دیا۔
’’دا سنگ آزادی دا‘‘ سے ’’آواز دو، ہم ایک ہیں‘‘ تک
وار آن ٹیرر کے دوران ریاست کی جانب سے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے اور ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی خبریں سامنے آتی رہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ راکھ اور ملبے تلے دبے بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں کی کہانیاں بھی مائیکروفون اور سوشل میڈیا کے ذریعے سنائی جانے لگیں۔ جن خاندانوں کے افراد ان کارروائیوں میں نشانہ بنے، ان میں سے بہت سے لوگ بھی اس تحریک کا حصہ بنتے گئے۔
سوات سے کوئٹہ تک پشتون ایک مشترکہ شناخت کے ساتھ دکھائی دینے لگے۔ جلسوں، جلوسوں اور لانگ مارچوں میں خواتین اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت نے پشتونوں کے متعلق قدامت پسندی کے عمومی بیانیے کو بھی چیلنج کیا۔ یوں ’’دا سنگ آزادی دا‘‘ پی ٹی ایم کا ایک اہم نعرہ بن گیا۔
اسی طرح، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام غربت، استحصال، معاشی جلاوطنی اور محرومیوں کا شکار رہے ہیں۔ مقتدرہ اور مقامی حکمرانوں کی جانب سے انہیں سری نگر جانے والی ریل گاڑی پر بٹھائے رکھا گیا، جبکہ انہیں ذاتوں اور برادریوں میں تقسیم کیا جاتا رہا۔ جب انہوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا تو انہیں ایجنٹ اور غدار قرار دیا گیا۔
جیک کے احتجاجی مظاہروں میں خواتین روزِ اول سے شامل رہی ہیں اور گزشتہ چار ماہ سے راولاکوٹ میں مردوں کے شانہ بشانہ دھرنا دیے بیٹھی ہیں۔ جیک کی جانب سے ’’آواز دو، ہم ایک ہیں‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، جو بھمبر سے نیلم تک گونجنے لگا۔ یوں یہ نعرہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی اہم شناخت بن گیا۔
بچے سے لاڈلے بچے تک
ابتدا میں پی ٹی ایم کے بعض مطالبات تسلیم کیے گئے، جس طرح جیک کے ساتھ تین معاہدے کر کے اس کے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔ ابتدا میں فوج نے پی ٹی ایم کے بعض مطالبات کو بھی تسلیم کیا، جیسے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں۔
بعد ازاں، کور کمانڈر پشاور نے ایک تقریب میں کہا کہ منظور پشتین ہمارا بچہ ہے؛ اگر وہ غصے میں ہے تو بھی ہم اسے سنیں گے۔
تقریباً اسی نوعیت کا بیان حالیہ دنوں میں فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ترجمان کی جانب سے بھی سامنے آیا، جب انہوں نے کہا کہ کشمیر ہمارا لاڈلا بچہ ہے۔
گویا بچہ اب لاڈلا ہو چکا ہے۔ نہ جانے اس لاڈلے کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا؛ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
پُرامن جدوجہد اور ریاست کا مذاکرات سے انکار
جیک اور پی ٹی ایم، دونوں کا مؤقف ہے کہ وہ عدم تشدد پر مبنی جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، جبکہ ریاست ان دونوں پر پُرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب، ریاست کا ایک عجیب وتیرہ دکھائی دیتا ہے کہ ان تحریکوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ حالانکہ یہی ریاست صوفی محمد سے لے کر افغان طالبان اور ملک کے اندر عسکری کارروائیوں میں ملوث مختلف گروہوں تک، متعدد فریقوں کے ساتھ مذاکرات کر چکی ہے۔
تو پھر پُرامن مطالبات کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ مذاکرات سے گریز کیوں کیا جاتا ہے؟
***
Share this content:


