امریکہ نے یوکرین کو 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی

امریکہ نے یوکرین کو روسی فضائی حملوں سے دفاع کے لیے 500 پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ ان میزائلوں کی ترسیل میں ’کئی سال‘ لگ سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جدید ’پی اے سی تھری انٹرسیپٹر‘ میزائلوں کی مالیت 2.1 ارب ڈالر ہو گی اور ان کی پوری ادائیگی یورپ اور کینیڈا میں یوکرین کے اتحادی کریں گے۔

زیلنسکی نے جمعے کی شب ایک بار پھر امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی تیز کرے۔ ان کے مطابق یہ واحد مؤثر دفاعی نظام ہے جو روس کے تباہ کن بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت رواں ماہ کے آغاز میں زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس وقت امریکہ نے روسی ڈیزل کی خریداری کے ایک معاہدے کے تحت روس پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی تھی۔

ٹرمپ نے اس دوران کہا تھا کہ روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ کرنے کی غرض سے یوکرین کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملہ شروع کیا تھا، جبکہ اس سے پہلے وہ کریمیا اور مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس کے بعض حصوں پر قبضہ کر چکا تھا۔

تاہم 20 اکتوبر کو اوسلو میں زیلنسکی کی امریکی نمائندوں سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مجوزہ فروخت سے یوکرین کے دفاع کو بہتر بنانے اور یورپ میں سیاسی و معاشی استحکام کو مضبوط کرنے کے امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے مقاصد کو تقویت ملے گی۔

بیان کے مطابق میزائلوں کی خریداری کے لیے کینیڈا، جرمنی اور ناروے کے عطیات، جَمپ سٹارٹ پروگرام اور یورپی یونین کے یوکرین سپورٹ لون کے تحت فراہم کردہ رقوم استعمال کی جائیں گی۔

امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن اس معاہدے کی مرکزی ٹھیکیدار ہو گی۔ محکمہ خارجہ کے مطابق اس فروخت کے لیے امریکی حکومت کی کوئی رقم استعمال نہیں کی جائے گی۔

یوکرین کو ان میزائلوں کی فوری ضرورت ہے، تاہم دنیا بھر میں پیٹریاٹ میزائلوں کی قلت پائی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کی جانب سے ان میزائلوں کا استعمال بھی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق پیٹریاٹ میزائلوں کی سالانہ پیداوار تقریباً 600 ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ نئے میزائلوں کی تیاری اور ترسیل کا شیڈول کیا ہو گا، تاہم اطلاعات کے مطابق یہ معاہدہ پہلے سے تیار میزائلوں کے بجائے نئے میزائلوں کی تیاری سے متعلق ہے، جس کے باعث فوری فراہمی کا امکان کم ہے۔

زیلنسکی نے رواں ہفتے کہا تھا کہ یوکرین اہم میزائلوں کی فراہمی کی امریکی منظوری کے لیے تقریباً ایک ماہ سے انتظار کر رہا تھا اور اس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔

انھوں نے جمعے کی شب ایکس پر امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائلوں کی ضرورت ’ابھی‘ ہے۔

زیلنسکی کے مطابق موسمِ سرما سے قبل روس نے یوکرین کے اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ملک کے بجلی کے نظام کے اہم حصوں پر 30 سے زائد حملے کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران یورپی سفارت کاروں نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی پر احتجاجاً سرکاری گروپ تصویر کے لیے کھڑے ہونے سے انکار کر دیا۔

اجلاس کی میزبانی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اجلاس کے دوران لاوروف سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’میں روسی وزیر خارجہ سے براہِ راست کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس جنگ میں جارح کون ہے۔‘

انھوں نے روسی حکومت پر یوکرین میں بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

یاد رہے کہ جولائی میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل خود تیار کرنے کا لائسنس دینے پر اتفاق نہیں کیا، حالانکہ اس سے تین ہفتے قبل انھوں نے یوکرین کو یہ حق دینے کی پیشکش کی تھی۔

Share this content: