روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ’ماسکو یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت کرتا ہے، تاہم اگر یورپ کے ساتھ جنگ چھڑی تو اس کا کوئی فاتح نہیں ہو گا۔‘
جمعرات کو افریقی رہنماؤں کے ساتھ سربراہی اجلاس کی میزبانی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ ’روس یورپ کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے تیار ہے، لیکن وہ ایسا کوئی تنازع نہیں چاہتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم یورپی ممالک کے ساتھ مکمل اور بامعنی تعلقات بحال کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔‘
پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہم تیار ہیں، لیکن یورپ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔ اگر کوئی جنگ چاہتا ہے تو اسے تیاری کرنی چاہیے، لیکن اب تک وہ روس کو سٹریٹجیک میدان میں شکست دینے کا اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے۔ اگر معاملات بہت آگے بڑھ گئے تو کوئی بھی فاتح نہیں ہو گا، اس بات کو کسی کو نہیں بھولنا چاہیے۔‘
روسی صدر نے رواں ہفتے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب اور ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گار سٹورے کے ساتھ اپنی ٹیلی فون پر گفتگو کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ماسکو سے رابطہ کر کے درست فیصلہ کیا، اگرچہ بعض یورپی دارالحکومتوں کی جانب سے اس اقدام پر تنقید کی گئی تھی۔
پوتن نے مزید کہا کہ ’روس بحیرۂ بالٹک میں جہاز رانی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتا۔‘ ان کے مطابق رابطوں اور مواصلات پر پابندیاں ایسی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں جیسی فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں دیکھی گئی۔
انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا کوئی خلیج یا آبنائے ہرمز جیسی صورتحال بحیرۂ بالٹک میں بھی چاہتا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ ہم ایسا نہیں چاہتے، لیکن کسی بھی چیلنج کا جواب دیں گے۔‘
Share this content:


