کشمیر میں ریاستی جبر کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کو پشتون تحفظ موومنٹ کا سرخ سلام

پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے مرکزی شعبہ اطلاعات و نشریات نے ایک اہم باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں جاری عوامی تحریک، اس کے کارکنوں اور عام شہریوں کے خلاف ریاستی جبر، تشدد، گرفتاریوں اور شدید خونریزی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پی ٹی ایم نے واضح کیا کہ کشمیری عوام کی یہ تحریک محض بجلی کے بلوں، آٹے کی قیمتوں یا چند انتظامی مطالبات تک محدود نہیں، بلکہ یہ اپنے سیاسی، معاشی اور جمہوری حقوق، اپنے قدرتی وسائل پر اختیار اور اپنی سرزمین پر حقیقی عوامی حکمرانی کے لیے ایک بنیادی جدوجہد ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے جس طرح پورے خطے میں عام شہریوں، تاجروں، وکلا اور نوجوانوں کو ایک مشترکہ عوامی پلیٹ فارم پر متحد کیا، وہ خطے کی سیاست میں ایک تاریخ ساز پیش رفت ہے جس نے ثابت کر دیا کہ عوام اب استحصال اور مسلط کردہ فیصلوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

ترجمان پی ٹی ایم نے کہا کہ ریاست نے عوامی بیداری اور مطالبات کا جواب مذاکرات کے بجائے طاقت، گرفتاریوں اور ریاستی مشینری کے وحشیانہ استعمال سے دیا۔ جون 2026ء کے احتجاجی واقعات میں درجنوں معصوم کشمیریوں کی شہادت، مظاہرین پر فائرنگ اور مواصلاتی پابندیوں نے ریاست کے جمہوریت پسندانہ دعوؤں کا پول کھول دیا۔ بیان میں عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی (ATA) کے تحت کالعدم قرار دینے، کارکنوں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے اور سیاسی سرگرمیوں کو سلامتی کا مسئلہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں نشاندہی کی گئی کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چھ ماہرین کی جانب سے بھی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی، مظاہرین کی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور حقوق کی خلاف ورزیوں پر حکومتِ پاکستان سے جواب طلب کیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ اب محض مقامی انتظامی تنازع نہیں رہا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔

پی ٹی ایم نے زور دیا کہ پشتون قوم خود کئی دہائیوں سے اسی ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور فوجی آپریشنوں کا شکار رہی ہے۔ ہماری سرزمین کو جنگوں کا میدان بنایا گیا اور وسائل کا استحصال کیا گیا۔ آج کشمیری عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی وسیع تر ریاستی بحران اور قومی حقوق کی پامالی کی ایک اور شکل ہے۔

پی ٹی ایم نے کشمیری عوام، عوامی ایکشن کمیٹی کے اسیران، شہداء اور متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پشتون، بلوچ، سندھی اور کشمیری عوام کے درمیان قومی یکجہتی اور مشترکہ جمہوری جدوجہد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ہماری نجات صرف ایک ایسے سیاسی و معاشی نظام میں ہے جہاں اقتدار، وسائل اور فیصلوں پر حقیقی اختیار حکمران طبقے کے بجائے عوام کا ہو۔

Share this content: