پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر سے زرنوش نسیم نامی ایک نوجوان کی گمشدگی پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرہ آج بعد نماز جمعہ زرنوش نسیم کے آبائی قصبے ملوٹ میں کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ زرنوش نسیم کی جبری گمشدگی قابل قبول نہیں ہے ۔
انہوںنے انتظامیہ سے لاپتہ نوجوان کی فوری بازیابی کامطالبہ کیا جبکہ عدم بازیابی کی صورت میں شدید احتجاج کا اعلان کیا ۔
علاقائی ذرائع کے مطابق زرنوش نسیم گزشتہ دنوں 13 اگست سے لاپتہ ہیں۔
علاقہ مکین اور باغ شہر کے نوجوان اسے جبری گمشدہ قرار دیکر سوشل میڈیا پرکمپین چلا رہے ہیں۔
زرنوش نسیم کی بیوی کا کہنا ہے کہ 13 اگست کی شام 4 بجے کے بعد سے زرنوش سے نہ کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی اس کا موبائل آن ہے۔
ان کاکہنا تھا ہے کہ زرنوش کو جبری گمشدہ کیا گیا ہے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ زرنوش رابطے میں نہ رہیں۔
انھوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد زرنوش کی بازیابی کو ممکن بنایا جائے۔