صبح کا سورج ابھی پوری طرح نکلا نہ تھا کہ "فتح پور” کی گلیوں میں ہلچل مچ گئی۔ شہر کے چوک پر پوسٹرز بدلے جا رہے تھے۔ کل تک جو لیڈر عوام کو ایک پارٹی کے جھنڈے تلے روشن مستقبل کا خواب دکھا رہا تھا، آج نئی پارٹی کا نشان چومتے ہوئے تصویریں کھنچوا رہا تھا۔ لوگ چائے کے ہوٹلوں پر بیٹھے طنز کے نشتر چلا رہے تھے، فرحان فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا اپنے والد منصورایڈووکیٹ کے ساتھ ہوٹل پہ بیٹھا تھا۔ فرحان نے اپنے والد سے سوال کیا: ۔۔۔
"ابا جان یہ نیا لیڈر کون ہے؟”
بیٹا، یہ نیا نہیں وہی پرانا لیڈر ہے، بس پارٹی بدلی ہے، نظریہ نہیں… کیونکہ نظریہ کبھی تھا ہی نہیں۔۔۔
کیا مطلب ابا جان؟ سیاست اصل میں ہوتی کیا ہے؟ فرحان نے سوچتے ہوئے ابا سے سوال پوچھا۔
منصور ایڈووکیٹ پیار بھری نظروں سے اپنے معصوم بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں تعلیمی نظام کی فرسودگی پہ کُڑا اور سوچنے لگا کہ کیسا تعلیمی نظام ہے کہ اس بچے کی اب کالج کی پہلی سال ہے اور اب تک اسے سیاست، سماج، نظریات کسی چیز کی ہوا نہیں لگنے دی گئ۔ فرحان نے باپ کو سوچ میں ڈوبتے دیکھا تو اپنا گلہ کھنکھارتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔
منصور نے چونک کر فرحان کی طرف دیکھا اور کھوئے ہوئے انداز میں گویا ہوا:
بیٹے سیاست عوامی فلاح، نظم و نسق کے قیام اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو کہتے ہیں۔ یعنی سماجی بہتری کے لیے افراد ٬ جماعتوں یا حکومت کو اجتماعی نظام کو منظم کرتے ہوئے نہ صرف عوامی رہنمائ کرنا ہوتی ہے بلکہ عوام کے مسائل حل کرتے ہوئے انکے حقوق بہم پہنچانا سیاست کہلاتی ہے۔ بیٹے! عوامی مفاد کے لیے خود کو تیاگ دینے ، وقف کر دینے کا نام سیاست ہے۔ یہ کاروبار نہیں نہ ہی ملازمت ہے بلکہ یہ عوامی خدمت اور ایک افضل عبادت ہے۔۔۔۔
منصور نے فرحان کی دلچسپی محسوس کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ لیکن ہمارے ہاں سیاست نام کی چیز اب ڈائنوسار کی طرح ناپید ہو چُکی ہے۔ کسی کو سیاست کی الف ب کا بھی نہیں پتہ اور نہ دلچسپی ۔۔۔ بلکہ سیاست اب ایک کاروبار بن چُکی ہے۔ ایسا کاروبار جس میں اقتدار میں آنے کے لیے ہر ممکنہ راستہ اپناتے ہوئے انویسٹمنٹ کی جاتی ہے اور اقتدار میں آ کر اپنا لگایا ہوا پیسہ ترقیاتی سکیموں، ٹھیکوں، سرکاری ملازمین کی بھرتیوں و دیگر سرکاری طریقوں سے عوام کا خون نچوڑ کے دس گُنا زیادہ پیسہ کمانا اس سیاست کا مقصد بن گیا ہے۔ اور نتیجہ کرپشن ، لاقانونیت، اقربا پروری جیسے ان گنت ناسور مجموعی طور پر معاشرتی تنزلی و خستہ حالی کے مؤثر کردار بنتے ہوئے ایک ایسے بانجھ معاشرے کی تعمیر و آرائش میں مصروف ہیں جس میں آئستہ آئستہ اخلاقیات، کردار، ذمہ داریاں، ترقی، خلوص ، وطن پرستی اور جواب دہی وغیرہ کا تصور مٹ چُکا ہے اور عوام مختلف ناموں و طریقوں کے ساتھ حکمرانوں کی عیاشیوں کا صرف مہرہ بنائے جا چُکے ہیں۔
لیکن ابا جان ان حکمرانوں کا انتخاب تو عوام کرتے ہیں پھر تو قصور عوام کا ہی ہوا، اگر عوام اچھے لوگوں کا انتخاب چاہیں تو انہیں کون روک سکتا؟ فرحان نے موضوع میں ڈوبتے ہوئے سوال داغا۔
بیٹے! یہ صرف کتابی باتیں ہیں، منصور نے ویٹر کو چائے لانے کا کہتے ہوئے جواب دیا۔ جمہوریت کے نام پر ویسے ہی پوری دنیا میں عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے لیکن عالمی شماریات جنہیں تیسری دُنیا گنتا ہے ان ممالک میں جمہوریت ایک بہت بڑا اور سرعام کرپشن کا اڈا ہے۔ ایسے ممالک میں حکومتیں نادیدہ قوتیں یعنی اسٹیبلشمنٹ لاتی ہے اور یہ ذہن میں رہے کہ اس سامراجی نظام میں لوکل اسٹیبلشمنٹ عالمی سامراجی اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہوتا ہے۔ یعنی کسی بھی ملک کے ادارے اور افراد تو اُس ملک کے مقامی ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کی بہتری ، خوشحالی کی بجائے عالمی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یہی وہ وجہ ہے کہ ایشیا سے لے کر افریقہ تک تقریبا ہر ملک بے انتہا قدرتی وسائل رکھنے کے باوجود نہ صرف انتہائی کسمپرسی اور معاشی تنگ دستی کی زندگی گزار رہا ہے بلکہ عالمی اداروں کے قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے اور بدامنی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ تو ایسے کنٹرولڈ ممالک میں الیکشن اور ووٹ محض ایک کتابی خیال ہوتا ہے جبکہ حقیقت میں حکومتیں سامنے نظر نہ آنے والی ان ممالک کی اصل مالک قوتیں بناتی ہیں ،عوام نہیں۔
ووٹ کی بے توقیری دیکھتے ہوئے لوگوں کی اکثریت کے ضمیر بھی مر چکے ہیں اور اکثریت عوامی فلاح و سماجی بہتری کے نظریات چھوڑ کر ہر چڑھتے سورج کی پوجا کرنے کا نظریہ اپنا لیتی ہے ، جو کہ عوام کے اپنے ہی خلاف ہوتا ہے، منصور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
لیکن بیٹے ! جہاں عوامی اکثریت بیدار ہو وہاں ڈنڈی مارنا ناممکن ہے ورنہ باقی ہر جگہ تو جو لیڈر نما شخص جیتتا نظر آ رہا ہو لوگ اسی کی حمایت میں نکل پڑتے ہیں اور ہمیشہ اپنے دشمن خود بنتے ہوئے اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ اب نظریاتی عوامی محاذ اور عوامی حقوق تحریک والوں کو ہی دیکھ لیں ، کم لوگ ہی سہی لیکن میرا خیال ہے کہ ان جیسے پلیٹ فارم اگر تیسری دنیا کے سبھی ممالک کو میسر آ جائیں تو شاید ہر ملک کی قسمت بدل جائے۔
اسی شہر کے ایک کونے میں، ایک مٹی سے اٹی چھوٹی سی لائبریری تھی، جہاں ہمیشہ کی طرح استاد کریم بخش بیٹھے تھے۔ سفید داڑھی، شفاف آنکھیں، اور دل میں ایک ایسا خواب جو وقت کے دھارے میں مٹنے کی بجائے اور روشن ہوتا جا رہا تھا۔
وہ ہر روز چند نوجوانوں کو اکٹھا کرتے، سیاست کی اصل روح سمجھاتے:
"سیاست عبادت ہے، عوام کی خدمت ہے۔ جس کا ضمیر زندہ ہو، وہی سیاست دان ہو سکتا ہے۔ پارٹی بدلنا جرم نہیں، مگر اصولوں کو چھوڑ دینا، اپنے مفاد کے لیے وفاداریاں بدلنا… یہ سیاست نہیں، خود فروشی ہے۔”
ایک دن نوجوانوں کے اس حلقے میں ایک لڑکی بھی شامل ہوئی، نام تھا "آفرین”۔ غریب گھر کی، مگر سوچ میں امیر۔ اس کے والد بلدیہ میں خاکروب تھے اور ماں بیمار۔ آفرین کو استاد کریم بخش کی باتوں میں سچائی کی خوشبو آتی تھی۔
آفرین نے فیصلہ کیا، وہ "نظریاتی عوامی محاذ” نامی ایک چھوٹے مگر اصولی سیاسی پلیٹ فارم سے جڑ جائے گی، جو صرف مسائل پر بات کرتا تھا، نہ کہ چمکتی تقریروں یا بڑی گاڑیوں پر۔
شہر میں جلد ہی بلدیاتی الیکشن کا اعلان ہوا۔ آفرین نے محلے سے امیدوار بننے کا فیصلہ کیا۔ مخالف پارٹیوں نے مذاق اڑایا:
"یہ خاکروب کی بیٹی کیا سیاست کرے گی؟”
افرین نے جواب دیا:
سیاست وہی کرے گا جو عوام کے دکھ سہے، جو گلی کے پانی میں بھیگا ہو، جس نے آٹے اور ہسپتال میں ڈاکٹر کو دکھانے کی لائن دیکھی ہو، جو اسکول کی فیس نہ دے سکنے کی اذیت سمجھتا ہو۔
آفرین نے نہ کوئ پارٹی بدلی، نہ کسی سردار ، راجے کے قدم چومے۔ اس نے صرف عوام کے ساتھ وقت گزارا، ان کی گلیوں میں گھوم کر وعدے نہیں کیے بلکہ مسائل سنے۔
انتخاب کے دن آئے۔ بڑے لیڈروں کے جلسے، پیسے، پرچیاں، کھانے اور وعدے… مگر اس بار عوام نے ضمیر کو ووٹ دیا۔ آفرین جیت گئی۔
جیت کے دن، وہ استاد کریم بخش کی لائبریری آئی، ان کے ہاتھ چومے اور بولی:
"استاد جی! یہ فتح میری نہیں، اس سوچ کی ہے جو آپ نے ہمیں دی۔”
استاد مسکرائے، آنکھوں میں نمی لیے بولے:
جب تک سیاست میں افرین جیسے لوگ ہیں، تب تک یہ قوم ہاری نہیں۔۔
سیاست کو گالی بننے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مفاد پرست "سیاسی داشتاؤں” کو پہچانیں اور اصولوں پر کھڑے سچے کارکنوں کو آگے لائیں۔ سیاست اگر ضمیر سے جڑی ہو تو وہ عوام کے لیے روشنی بن جاتی ہے ورنہ ایک قہر۔۔۔
٭٭٭
Share this content:


