طالبان کے سارے فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں، جنگ بندی زیادہ دیر نہیں چلے گی ،خواجہ آصف

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں اور بدھ کے روز 48 گھنٹوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں جنگ بندی زیادہ نہیں چلے گی کیونکہ اِس وقت طالبان کے ’سارے فیصلے دلی سے سپانسر ہو رہے ہیں۔‘

بدھ کی شب جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان اس وقت ایک انڈیا کی پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ ’جھنڈے پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے اور وہ اس وقت انڈیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔‘

کابل میں پاکستان کی جانب سے مبینہ فضائی کارروائی سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’میں اس بارے میں زیادہ بات نہیں کروں گا، لیکن ہمارے پاس افغانستان کے کسی بھی حصے پر بمباری کرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔‘

تاہم انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ’افغانستان کے کافی اندر حملے ہوئے ہیں۔‘

’اگر انھوں نے اس جنگ کو بڑھایا یا اس کو پھیلایا۔۔۔ ہم بالکل اپنی پوری طاقت کے ساتھ انھیں جواب دیں گے۔‘

یاد رہے کہ اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی تھی کہ بدھ کی دوپہر دارالحکومت کابل پر دو فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

پاکستانی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان جنگ بندی کچھ دوست ممالک کی مداخلت سے ہوئی ہے۔’لیکن یہ [سیز فائر] بڑا نازک ہے، میں نہیں سمجھتا یہ زیادہ دیر نکالے [چلے] گا۔‘

اں کا مزید کہنا تھا کہ ’آیا انڈیا کا اثر و رسوخ، ہمارے دوست ملکوں کے اثر و روخ کو کم کر سکتا ہے یا نہیں، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔‘

پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے نے الزام عائد کیا کہ اس وقت افغان طالبان ٹی ٹی پی کے ساتھ مل گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نے ٹی ٹی پی پر حملہ کیا تھا لیکن اس کے جواب میں ہونے والی کارروائیوں میں افغانستان بھی شامل ہے۔ ’اگر افغانستان خود شامل ہو رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دونوں فرنچائز ایک ہی چیز ہیں، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک افغانستان پر جنگ بندی کے لیے اس طرح زور نہیں ڈال رہے جیسے ان کو کرنا چاہیے، خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں، اگر اس سلسلے میں کوئی تعمیری بات سامنے آتی ہے تو ہم بالکل اس کا جواب دیں گے۔‘

وزیرِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر وہ سیز فائر خلاف ورزیاں کرتے رہے، سرحدی علاقوں پر بمباری کرتے رہے، ہماری پوسٹس پر حملے کرتے رہے تو ہمیں اسی طرح سے جواب دینا پڑے گا، اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ آیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا:’امریکی صدور نے جنگیں کروائی ہیں، یہ پہلے صدر ہیں جنھوں نے جنگیں بند کروائی ہیں۔۔۔۔ اگر وہ یہاں بھی کرنا چاہتے ہیں تو وہ ضرور کریں۔‘

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ جو دوست ممالک پہلے ہی ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں ان کے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، وہ اگر چاہیں تو مل کر یہ کام کر سکتے ہیں۔

Share this content: