مظفرآباد / کاشگل نیوز
مرکزی ایوانِ صحافت مظفرآباد میں معروف کھلاڑی راجہ صبیح الحسن نے دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپورٹس بورڈ کشمیر پر شدید الزامات عائد کیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سطح پر آزاد کشمیر کی نمائندگی کے نام پر بغیر ٹرائل 250 سے زائد افراد کو کراچی روانہ کیا گیا، جن میں سے اکثر کا کھیلوں سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
راجہ صبیح الحسن کے مطابق ملک کے تمام صوبوں میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ضابطوں کے تحت ٹرائلز منعقد ہوتے ہیں، مگر کشمیر میں کسی قسم کے ٹرائلز نہیں لیے گئے، جس کے باعث اصل کھلاڑیوں کا حق متاثر ہوا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ “ہمیں علم ہی نہیں کہ کراچی لے جانے والے یہ کھلاڑی کہاں سے لائے گئے؟ ایسی گیمز میں بھی پلیئرز بھیج دیے گئے جن کا آزاد کشمیر میں وجود ہی نہیں، جیسے سیلنگ اور آرچری۔ جب یہاں یہ کھیل ہوتے ہی نہیں تو کھلاڑی کہاں سے آئے؟”
ان کا کہنا تھا کہ کٹس کی فراہمی میں بھی امتیاز برتا جاتا ہے ۔
پریس کانفرنس میں کھلاڑیوں نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر کی ٹیم کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں ناقص معیار کی کٹس فراہم کی گئیں۔
راجہ صبیح الحسن نے میڈیا کو تصاویر دکھاتے ہوئے بتایا کہ کشمیر ٹیم کی شرٹس پر محض ایک اسٹیکر لگا کر کام چلایا گیا، جبکہ باقی صوبوں کی کٹس نہایت معیاری تھیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر کھلاڑیوں نے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
سپورٹس بورڈ کشمیر شفاف ٹرائل سسٹم فوری بحال کرے۔
اصل کھلاڑیوں کو قومی اور بین الصوبائی ایونٹس میں نمائندگی دی جائے۔
ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کرائی جائیں۔
آئندہ لائحہ عمل دو روز میں میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
راجہ صبیح الحسن نے واضح کیا کہ کھیلوں کے حق دار نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے نہیں دیا جائے گا اور کھلاڑیوں کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔
Share this content:


