پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، جہاں گزشتہ برس بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی وجہ سے عوام کے لیے ایک مالی راحت کا باعث بنا تھا، اب شدید توانائی بحران کی زد میں ہے۔ پورے خطے میں کم وولٹیج اور بدترین لوڈشیڈنگ روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ شہری علاقوں میں روزانہ 14 سے 15 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 17 گھنٹے تک بجلی کی بندش معمول بن چکی ہے، جس نے عوامی حلقوں میں شدید تشویش کو جنم دے دیا ہے۔
پونچھ، باغ اور کوٹلی سمیت متعدد علاقوں میں شہری کہتے ہیں کہ لوڈشیڈنگ کے غیر اعلانیہ اوقات نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔
لوڈشیڈنگ نے صرف گھروں ہی نہیں بلکہ کاروباروں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
پاکستان زیر انتظام کشمیر جہاں نیلم جہلم سمیت متعدد پن بجلی منصوبے رکھتا ہے، وہاں توانائی بحران نے شہریوں میں سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطہ اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کرتا ہے مگر یہاں کے شہری اندھیروں کے مکین بن گئے ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق مسئلہ نظامِ ترسیل، لوڈ مینجمنٹ اور لائن لاسز کا بھی ہے، لیکن اس حوالے سے حکومتی مؤقف اکثر غیر واضح رہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر شہری کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب خطہ بجلی پیدا کرنے میں خود کفیل ہے تو یہاں طویل لوڈشیڈنگ کیوں کی جا رہی ہے۔
توانائی بحران نے آزاد کشمیر کے لوگوں کی روزمرہ زندگی، معاشی سرگرمیوں اور ذہنی سکون تینوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب JAAC نے لوڈشیڈنگ کم وولٹیج کو کو لے کر 16 دسمبر کو پونچھ ڈویزن کے مقامی گریڈ اسٹیشنوں اور محکمہ برقیات کے دفاتر کی جانب لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔
Share this content:


