پہاڑوں کا عالمی دن: پاکستانی جموں  کشمیر میں پہاڑ ماحولیاتی خطرات سے دوچار

11 دسمبر — دنیا بھر میں آج پہاڑوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن 2002ء سے ہر سال اس مقصد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ پہاڑوں کے تحفظ، ان کے قدرتی ماحول کے استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کیے جائیں۔

تاہم پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں نہ صرف قدرتی ماحول تیزی سے متاثر ہو رہا ہے بلکہ خطے کے پہاڑ بھی شدید ماحولیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔

علاقے میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث بے ہنگم اور بلا منصوبہ تعمیرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی مقامات پر پہاڑوں کو کاٹ کر چوٹیوں تک تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ یہ علاقہ فالٹ لائن کی گزرگاہ بھی ہے جو کسی بھی بڑے حادثے کے خدشات میں اضافہ کرتا ہے۔

دوسری جانب سیاحت کو فروغ دینے کے لیے نئی سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر بھی بغیر منصوبہ بندی کے کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑوں کی کٹائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے پہاڑوں کے سرکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مزید برآں پونچھ اور میرپور ڈویژن میں کئی پن بجلی منصوبوں کے تحت جھیلیں قائم کی گئی ہیں جن کے گرد پہاڑ مسلسل بیٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان مسائل کا بروقت ادراک نہ کیا گیا تو خطے کو مستقبل میں سنگین ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پہاڑوں کے عالمی دن کے موقع پر ماحولیاتی ماہرین نے اس امر پر زور دیا ہے کہ خطے کے قدرتی ماحول کے تحفظ، بے ہنگم تعمیرات پر پابندی اور جنگلات کی بحالی کے لیے فوری اور جامع اقدامات ناگزیر ہیں۔

Share this content: