طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی عرب کی ثالثی کے ذریعے تین پاکستانی فوجیوں کو رمضان المبارک کے موقع پر جیل سے رہا کیا گیا۔
ذبیح مجاہد نے دعویٰ کیا کہ فوجیوں کو 12 اکتوبر کو جنوبی افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر طالبان کی سرکاری افواج کے ’انتقامی حملوں‘ کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔
طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ ’امارت اسلامیہ نے ان قیدیوں کو دوسرے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے رہا کیا۔‘ انھوں نے کہا کہ جنگ کے دوران پاکستانی افواج نے افغان جانب سے کوئی فوجی نہیں پکڑا۔
طالبان حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان نے تمام ممالک کے ساتھ مثبت تعلقات پر زور دینے کی اپنی پالیسی کے مطابق رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی آمد کے اعزاز میں جو کہ رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے اور برادر ملک سعودی عرب کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کی میزبانی کی درخواست کے جواب میں کل پیر کے روز کابل پہنچنے والے تین پاکستانی فوجیوں کو قیدیوں کے ساتھ رہا کیا۔‘
پاکستان نے ابھی تک ان قیدیوں کی رہائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
9 اکتوبر 2025 کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ بعد ازاں طالبان حکومت کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کابل کی فضائی حدود کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے اور پکتیکا اور کنڑ میں شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
طالبان حکومت نے خبردار کیا کہ یہ ’جارحیت‘ لا جواب نہیں جائے گی اور ’مناسب‘ وقت پر جواب دیا جائے گا۔
11 اکتوبر کی شام ڈیورنڈ لائن پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسی دوران، طالبان حکومت کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی افواج نے ڈیورنڈ لائن کے پاکستانی جانب ’جوابی‘ حملے شروع کیے ہیں، جو 12 اکتوبر تک جاری رہے، کشیدگی میں اضافہ ہوا، اور پاکستانی افواج نے افغانستان کے اندر کئی علاقوں پر فضائی حملے بھی کیے۔
افغانستان میں طالبان حکومت اور پاکستانی فریق کے درمیان قطر کی ثالثی میں جنگ بندی ہوئی تاہم کئی علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ قطر اور ترکی میں ناکام مذاکرات کے بعد یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب نے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کے لیے قدم بڑھایا ہے لیکن بظاہر سعودی شمولیت اور مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی وفد نے پاکستانی فوجیوں کی رہائی کے لیے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کھل کر ثالثی کی ہے۔
اگرچہ پاکستانی افواج پہلے بھی طالبان حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتی رہی ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں کہا کہ ان کے فوجیوں کو طالبان حکومت نے قید میں رکھا ہوا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی گفتگو میں جو بات واضح ہوتی ہے وہ ’ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات‘ پر زور اور سعودی ثالثی کا خیرمقدم ہے، جس نے گذشتہ چند مہینوں میں پہلی بار ایک عملی قدم آگے بڑھایا ہے۔
Share this content:


