کاشگل نیوز خصوصی رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر جو دنیا کی جنت کہلاتا ہے مگر جنت کے باسی جنت چھوڑ کر معاشی جلا وطنی کا شکار ہو رہے ہیں ۔یہ رحجان نیا نہیں مگر گزشتہ کچھ سالوں میں اس میں شدت آئی ہے ۔کئی نوجوان جو یونیورسٹیوں سے اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں وہ خطے میں روزگار کے مواقع نہ ملنے کے باعث مشرق وسطی اور یورپ کے جانب ہجرت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس حوالے سے ہم نے پاکستان زیر انتظام جموں کشمیر کی تینوں ڈیوژنوں مظفرآباد پونچھ اور کوٹلی کی تین بڑی جامعات کے شعبہ قانون شعبہ تعلقات عامہ کے اسٹوڈنٹس سے بات کی اور خطے میں بڑھتے برین ڈرین کی وجوہات جانے کی کوشش کی ہے۔
میرٹ کی پامالی بے روزگار عدم تحفظ یہ وہ وجوہات ہیں جس وجہ سے ہم لوگ یہ خطہ چھوڑنا چاہ رہے ہیں یہ جملے ہیں ان جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کے۔ اس سروے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خطے کی یوتھ اب خطے اپنا مستقبل تاریک دیکھ رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتا برین ڈرین اور خطے کی سیاسی اشرافیہ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو برس سے احتجاج کی زد میں ہے وہیں ان احتجاجی مظاہروں میں شریک مظاہرین زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے جو خطے کی سیاسی اشرافیہ سے تنگ دکھائی دیتے ہیں ۔خطے میں بر ین ڈرین اور غیر قانونی ہجرت پر سابق وزیراعظم کشمیر چوہدری انوار الحق فرماتے ہیں اس خطے میں قانون کی کوئی عمل داری نہیں یہاں پر رول آف لا سرے سے ہے ہی نہیں جس کے باعث خطے کے نوجوان اب یہاں نہیں رہنا چاہتے اور یہاں سے نکلنے کی کوشش میں ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستانی کشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور فرماتے ہیں کہ نوجوانوں کو ریاست چھوڑ کر ہجرت کرنی چاہیے ، رزق ماں کی گود میں بیٹھ کر نہیں ملتا ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، اس وجہ سے نوجوانوں کو باہر نکلنا چاہیے۔
سیاسی تجزیہ نگار
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق خطے کی سیاسی اشرافیہ چاہتی ہےکہ یہاں کا نوجواں یہاں سے ہجرت کرے تاکہ زرمبادلہ آئے اور ہم یہاں پر اسٹیٹس انجوائے کریں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق کسی بھی خطے کے نوجوان اس کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ریاست ان کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں مگر نو آبادیاتی سوچ میں پل بھڑکر ابھرنے والی سیاسی اشرافیہ کے نزدیک نوجوان ان کے کمائی کا ذریعہ ہیں۔
بیورو آف امیگریشن پاکستان کی رپورٹ
ایمریگیشن بیوروکی جاری کر دہ رپورٹ میں کئی الگ سے پاکستان کشمیر سے بیرون ممالک جانے والوں کا کوئی اعداد شمار تو نہیں دیا گیا مگر مجموعی طور پر سال 2025 میں سات لاکھ باسٹھ ہزار 499 پاکستانی روزگار کی تلاش میں پاکستان چھوڑ گئے۔ ان اعدار شمار میں پاکستان زیر انتظام کشمیر کے شہری بھی شامل ہیں۔ بیرون ممالک جانے والوں میں اٹھارہ ہزار تین سو باون اعلیٰ تعلیم یافہ افراد شامل ہیں۔ یاد رہے اس وقت پاکستانی کشمیر تعلیم کی شرح ستر فیصد سے زائد ہے۔
اعلی تعلیم یافتہ ہجرت کرنے والے نوجوانوں کیا سوچتے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان روشن مستقبل کے لیے زیادہ تر یورپ کی جانب سفر کے خواہش مند رہتے ہیں۔ برطانیہ میں مقیم اسٹوڈنٹس سے جب ہم نے بات کی تو ان کہنا تھا کہ ہم پاکستانی کشمیر میں مایوسی کے عالم میں لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنے پیارں کے بہت سے خواب لیے یہاں ہجرت پر مجبور ہو ئے ہیں۔ یہاں مشکلات تو ہیں مگر جب مڑ کر واپس دیکھتے ہیں تو ہمیں پھر یہاں ایک امید کی کرن نظر آتی ہے۔ سٹڈی کے ساتھ کام کے مواقع اگرچہ کم میسر ہیں مگر پھر بھی جو کام کے اوقات کار کے گھنٹے ملتے ہیں اس سے اچھی اجرت ملتی ہے جس سے ہم اپنے سر وائول کے ساتھ ساتھ اپنے پیاروں کو بھی زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔
٭٭٭
Share this content:


