2025 پاکستانی کشمیر جموں کے لیے خوف، احتجاج اور بے یقینی کا سال ثابت

سال 2025 پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا باب بن کر درج ہوا جس نے جنگ، سیاست اور عوامی زندگی تینوں کو بری طرح متاثر کیا۔

یہ سال خوف، بے یقینی، احتجاج اور سیاسی عدم استحکام کی ایک طویل داستان ثابت ہوا، جس کے اثرات خطے کے ہر طبقے نے محسوس کیےلیکن عوام میں آگہی کی شعور اور خود شناسی پنپتاہوا دکھائی دیا جسے خطے کے لئے ایک نیک شگون قرار دیا جارہا ہے ۔

21 جولائی 2025 کو خطے میں ایک غیر معمولی اور تاریخ ساز منظر دیکھنے میں آیا، جب مراعات اور دیگر مطالبات کے حق میں پولیس نے پہلی مرتبہ پورے خطے میں کام چھوڑ ہڑتال کا آغاز کیا۔ یہ ہڑتال دو روز تک جاری رہی، جس کے باعث ریاستی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا اور حکومتی ڈھانچے کی کمزوری کھل کر سامنے آ گئی۔

اسی سال 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سرحدی صورتحال اس وقت شدید کشیدگی اختیار کر گئی، جب بھارت کی جانب سے مبینہ ائیر اسٹرائکس کی گئیں۔ چار روز تک جاری رہنے والی اس جھڑپ نے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اس دوران دو درجن سے زائد بے گناہ شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے۔

ستمبر کے اختتام پر حالات نے ایک اور سنگین رخ اختیار کیا۔ 28 ستمبر سے 4 اکتوبر تک پورے خطے میں مکمل بلیک آؤٹ رہا۔ مواصلاتی نظام کی بندش اور اطلاعات کے فقدان نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیے رکھا۔ انہی دنوں جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو گئی۔

سیاسی منظرنامے میں بھی ہلچل برقرار رہی۔ 17 نومبر 2025 کو پاکستانی کشمیر کی تاریخ کے سولہویں وزیراعظم نے حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی 942 دن تک قائم رہنے والی مخلوط حکومت اختتام کو پہنچی۔ تاہم حکومت کی تبدیلی کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں برقرار رہے۔

سال بھر عوامی احتجاج معمول بنے رہے۔ آنسو گیس اور بلٹس—جو 2024 میں شہریوں کا مقدر بنی رہیں۔2025 میں بھی عوام کا پیچھا کرتی رہیں۔ عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں سات شہری اور دو پولیس اہلکار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں مختلف واقعات کے دوران مجموعی طور پر 215 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں 141 مرد، 49 خواتین اور 25 بچے شامل تھے۔ یہ اموات ٹریفک حادثات، بھارتی فائرنگ، مون سون سے جڑے واقعات اور قتل کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں۔ دوسری جانب لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر موسمی آفات کے باعث مزید 50 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پاک بھارت کشیدگی میں 33 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ 132 اموات روڈ حادثات کا نتیجہ بنیں۔

سال 2025 تو گزر گیا، مگر اس کے چھوڑے گئے سوالات آج بھی زندہ ہیں۔
کیا آنے والے برس عوام کے لیے ریلیف لائیں گے؟
یا احتجاج، بے یقینی اور آزمائش کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا؟

Share this content: