اسلام آباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی بری امام مسلم کالونی میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بڑے پیمانے پر انسدادِ تجاوزات آپریشن کرتے ہوئے دو یونین کونسلز پر مشتمل علاقے کو مکمل طور پر خالی کرا لیا۔ اس اچانک اور سخت کارروائی کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہزار رہائشی مکانات مسمار کر دیے گئے جبکہ بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت 60 ہزار سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔
سی ڈی اے کی بھاری مشینری، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے صبح سویرے علاقے میں داخل ہوئی اور مرحلہ وار مکانات، دکانیں اور دیگر تعمیرات منہدم کی گئیں۔ آپریشن کے دوران متاثرہ مکینوں کو سامان منتقل کرنے کے لیے خاطر خواہ وقت نہ دیا جا سکا جس کے باعث گھریلو اشیاء، روزمرہ استعمال کا سامان اور کاروباری اثاثے ملبے تلے دب گئے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے یہاں آباد تھے، بیشتر خاندانوں کے پاس بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن موجود تھے جبکہ قومی شناختی کارڈز اور دیگر سرکاری دستاویزات پر یہی پتے درج تھے۔ متاثرین کے مطابق اگر یہ بستی غیر قانونی تھی تو ریاستی اداروں نے برسوں تک بنیادی سہولیات فراہم کیوں کیں، اور آج اچانک انہیں بے گھر کیوں کر دیا گیا۔
آپریشن کے بعد بری امام مسلم کالونی اور اس کے اطراف میں انسانی المیہ کا منظر دیکھنے میں آیا۔ کھلے آسمان تلے بیٹھے خاندان، روتے بلکتے بچے، بے سروسامان خواتین اور پریشان حال بزرگ شدید سردی اور بارش کے خطرات سے دوچار ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے نہ تو متبادل رہائش کا بندوبست کیا اور نہ ہی عارضی شیلٹرز، خیمے یا راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔
سماجی حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے اس آپریشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے شہریوں کے بنیادی انسانی حق، یعنی رہائش، کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں میں بھی بے دخلی سے قبل متبادل انتظامات اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم بری امام مسلم کالونی کے معاملے میں ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا۔
دوسری جانب سی ڈی اے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ سرکاری اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات پر مشتمل تھا اور آپریشن عدالتی احکامات کے تحت کیا گیا۔ تاہم حکام متاثرہ آبادی کی بحالی، معاوضے یا متبادل رہائش کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
متاثرہ شہریوں نے حکومت، وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ بے گھر خاندانوں کی بحالی، عارضی رہائش، مالی امداد اور بچوں کی تعلیم و صحت کے فوری انتظامات کیے جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ریاست واقعی فلاحی ہے تو اسے چھت دینے کا کردار ادا کرنا ہوگا، نہ کہ غریبوں کے سروں سے چھت چھیننے کا۔
Share this content:


