کشمیری صحافی سہراب برکت کے مزید 2 دن کی جسمانی ریمانڈ منظور

پاکستان کے زیر انتظام مقبوضہ جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی سہراب برکت کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ مگر انصاف کے ایوان میں جو منظر سامنے آیا، وہ خود ایک سوالیہ نشان بن گیا۔

صحافی نادر بلوچ کے مطابق صحافی سہراب برکت کو ایک نہیں، تین ججز کے پاس لے جایا گیا اور تینوں نے سماعت کے بجائے اپنی کرسی چھوڑ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے متعلقہ جج عباس شاہ کے سامنے پیش کیا گیا وہ اٹھ کر چلے گئے۔

پھر جج صہیب بلال کے پاس لے جایا گیا، وہ بھی سماعت کے بغیر اٹھ کرچلے گئے۔

اس کے بعد جج ملک محمد عمران کے روبرو پیشی ہوئی وہ بھی کھڑے ہو کر چلے گئے۔

بالآخر آدھے گھنٹے بعد واپسی ہوئی اور اسی لمحے، بغیر کسی ٹھوس کارروائی کے، دو دن کا مزید جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔

یاد رہے کہ سہراب برکت کو تین ہفتے قبل اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے حراست میں لے لیا گیاتھا ۔

سہراب برکت ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔

سہراب برکت جموں کشمیر میں چلنے والی حالیہ تحریک کے زبردست حامی تھے وہ اس وقت جموں کشمیر کی آواز بنے جب پاکستانی مقبوضہ جموں میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا میڈیا جھوٹ پھیلا رہا تھا، صحافی سہراب نے عوام تک سچ پہنچایا۔

وہ پاکستان اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جرات مندی سے آواز اٹھا رہے ہیں۔

Share this content: