کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب وقت ٹھہر سا جاتا ہے، اور تاریخ حال کے در و دیوار پر دستک دیتی ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری عوامی حقوق تحریک بھی کچھ ایسی ہی دستک ہےایک ایسی صدا جو ستر سالہ محرومی، وسائل کی لوٹ مار، غیر جمہوری طرزِ حکمرانی اور مسلسل لا قانونیت کے بوجھ تلے دبی ہوئی عوام کے سینے سے ابھری۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی صورت میں عوام کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد ہونا محض ایک احتجاجی عمل نہیں تھا، بلکہ یہ اس اجتماعی شعور کا اظہار تھا جو طویل خاموشی کے بعد بیدار ہوا ۔حقِ ملکیت، حقِ حکمرانی اور وسائل پر اختیار کے مطالبات دراصل وہی سوال ہیں جو دہائیوں سے ریاستی ایوانوں میں دفن کر دیے گئے ۔
یہ منظر نامہ اگر اجنبی لگے تو تاریخ کے اوراق پلٹ لیجیے۔ ستر کی دہائی میں مشرقی پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ عوامی لیگ نے جب چھ نکات پیش کیے تو وہ بھی کسی علیحدگی کی سازش نہیں تھے بلکہ صوبائی خودمختاری، وسائل پر اختیار اور سیاسی برابری کے مطالبات تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کشمیر میں عوام اپنے بنیادی حقوق کا سوال اٹھا رہے ہیں۔
مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ طاقتور ہمیشہ سوال کو سازش اور مطالبے کو غداری میں بدل دیتا ہے مشرقی پاکستان میں حق مانگنے والوں کو “بھارت کا ایجنٹ” قرار دیا گیا، اور آج کشمیر میں JAAC کی تحریک کو “را فنڈڈ” کہہ کر بدنام کیا جا رہا ہے۔ الزام وہی، کردار بدل گئے۔
جمہوریت کا جنازہ تب بھی آمریت نے اٹھایا تھا، آج بھی اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اس وقت ایک آمر اور مشرقی پاکستان میں شکست خوردہ سیاستدان ایک صف میں کھڑے تھے، آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں ایسے ہی کردار نظر آتے ہیں جو عوامی آواز سے خائف ہیں۔
اکتوبر میں کوہالہ کے مقام پر تمبر کے ڈنڈے اٹھائے لاکھوں افراد ہوں یا 7 مارچ 1971 کو ڈھاکہ کے ریس کورس گراؤنڈ میں بانس کی لاٹھیاں تھامے عوام یہ ہتھیار نہیں تھے، یہ مزاحمت کی علامت تھے۔ مقصد حملہ نہیں بلکہ یہ اعلان تھا کہ عوام اب خالی ہاتھ اور خالی ذہن نہیں۔
اس وقت بنگال میں مقامی فورسز پر عدم اعتماد کے باعث انہیں غیر مسلح کیا گیا اور مغربی پاکستان سے نفری منگوائی گئی۔ آج کشمیر میں بھی یہی تجربہ دہرایا جا رہا ہے—ایف سی، پیرا ملٹری فورسز اور اسلام آباد سے فیصلوں کا بوجھ۔ تاریخ گویا ایک ہی اسکرپٹ پر مختلف کرداروں کے ساتھ کھیلی جا رہی ہے۔
جب 1971 میں آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تو مغربی پاکستان کے اخبارات اور ذرائع ابلاغ نے ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس نے دونوں خطوں کے عوام کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر دی۔ آج بھی JAAC کی تحریک کے دوران قومی میڈیا نے وہی کردار ادا کیا،سچ کو مسخ کیا گیا، عوامی مطالبات کو شورش اور سازش بنا کر پیش کیا گیا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ تاریخ کیوں دہرائی جا رہی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بار تاریخ سے کچھ سیکھنے کو تیار ہیں؟ کیونکہ جب ریاست عوام کی آواز سننے سے انکار کر دے تو پھر آوازیں نعروں میں بدلتی ہیں، نعرے تحریکوں میں اور تحریکیں تاریخ کے فیصلہ کن موڑ بن جاتی ہیں۔
کشمیر ہو یا بنگال مسئلہ جغرافیہ کا نہیں، مسئلہ حق، اختیار اور عزت کا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے، یہ سوال دبائے نہیں جاتے، صرف مؤخر کیے جاتے ہیں۔
Share this content:


