کشمیر میں دراندازی کی کوشش ناکام ، ایک پاکستانی درانداز ہلاک

کشمیر کے اُوڑی قصبے میں انڈین فوج نے مسلح درانداز کی ہلاکت اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کشمیر میں مقیم انڈین آرمی کی 15 ویں پندرہویں کور نےایک بیان میں کہاہے کہ بارہمولہ ضلع کے سرحدی قصبہ اُوڑی میں لائن آف کنٹرول کے قریب بوچھار علاقے میں ’آپریشن ڈِگی‘ کے تحت مسلح دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنا دی گئی۔

فوجی ترجمان کے مطابق گذشتہ ہفتے کشمیر پولیس کی طرف سے ممکنہ دراندازی سے متعلق ملی خفیہ اطلاعات کے بعد اس سرحدی پٹی میں’آپریشن ڈِگی‘ شروع کیا گیا جس کے دوران گذشتہ شب بوچھار کے پاس ایل او سی کے اُس پار سے آ رہے ایک مسلح ’درنداز‘ کی حرکت کو مانیٹر کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق فورسز نے اسے روکا تو اس نے فائرنگ کر دی اور جوابی کارروائی یہ ’پاکستانی درانداز‘ مارا گیا۔

فوج کا دعویٰ ہے کہ مارے گئے عسکریت پسند کا تعلق پاکستان کے ساتھ ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں آپریشن ابھی جاری ہے۔

کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی 740 کلومیٹر طویل اور 35 کلومیٹر چوڑی عبوری سرحد یعنی لائن آف کنٹرول کا اُوڑی سیکٹر کئی دہائیوں سے اس سرحد کا حساس ترین سیکٹر رہا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی کنٹرول والے علاقوں سے انڈین علاقے میں دراندازی کے لیے مسلح عسکریت پسند اکثر اوقات اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں۔

گذشتہ برس 22 اپریل کو سیاحتی مقام پہلگام میں 24 انڈین سیاحوں کی مسلح حملے میں ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف آپریشن سندُور شروع کیا تو پاکستانی ردِعمل کے نتیجہ میں دونوں مملکوں کے درمیان ایک مختصر جنگ ہوئی۔

اس کشیدگی کے بعد سرحدی علاقوں میں گشت مزید بڑھا دیا گیا تھا۔ دراندازی کے تازہ واقعہ سمیت اس سال فروری سے ابھی تک ایسے چار واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں سے تین راجوری اور پونچھ اضلاع کے سیکٹروں میں ہوئے۔

Share this content: