جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں، پاکستانی دعو ے مسترد

بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جموں و کشمیر سے متعلق پاکستان کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔ بھارتی نمائندے نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے فورم کو بار بار بھارت کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے، سفیر ہریش پرواتھنینی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کا الزام عائد کیا اور اسے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کا معاملہ اٹھانا دراصل اپنی داخلی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

بھارتی مندوب نے پاکستان کو “دہشت گردی کا عالمی مرکز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں میں پاکستان میں سرگرم عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ان واقعات کو عالمی برادری کے سامنے متعدد بار اٹھایا ہے۔

بھارت نے اجلاس کے دوران پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک سابق وزیرِ اعظم کی قید اور دیگر سیاسی اقدامات جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی پر سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ بھارتی نمائندے کے مطابق پاکستان کو دوسروں پر الزامات لگانے کے بجائے اپنے اندرونی معاملات اور سلامتی کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس میں دونوں ممالک کے مؤقف سامنے آنے کے بعد سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، اور اقوام متحدہ کا فورم ایک بار پھر دونوں فریقوں کے سخت بیانات کا مرکز بن گیا۔

Share this content: