پاکستانی جموں کشمیر میں انٹرنیٹ بندش کے خلاف لوگ سراپا احتجاج

پاکستان کے زیرا نتظام جموں کشمیر کے علاقے حویلی کہوٹہ کے سب ڈویژن خورشید آباد میں ایس سی او کی ناقص موبائل اور انٹرنیٹ سروس کے خلاف طلبہ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بدستور جاری ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے مرکزی سڑک کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح درہم برہم ہو چکا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایک ہفتہ قبل ان سے معاہدہ کیا گیا تھا کہ موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بہتر بنایا جائے گا، تاہم تاحال اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ طلبہ کے مطابق انتظامیہ انہیں محض تسلیاں دے کر “لالی پاپ” دے رہی ہے۔

احتجاجی طلبہ کا کہنا ہے کہ بجلی کی طویل بندش اور ناقص انٹرنیٹ سروس کے باعث ان کا قیمتی تعلیمی وقت ضائع ہو رہا ہے، آن لائن کلاسز اور تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک بجلی اور بالخصوص موبائل و انٹرنیٹ سروس کو بہتر نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔

طلبہ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ انہیں بار بار سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین نے وزیر اعظم کشمیر، چیف سیکرٹری کشمیر، کمشنر پونچھ اور ڈپٹی کمشنر حویلی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور عوام کے حال پر رحم کیا جائے۔

احتجاج کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں جبکہ سڑک بند ہونے کی وجہ سے مسافروں، مریضوں اور ایمرجنسی میں جانے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔ واضح رہے کہ سست اور ناقص انٹرنیٹ سروس کے خلاف گزشتہ روز بھی پونچھ میں مکمل ہڑتال دیکھنے میں آئی تھی۔

Share this content: