پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کی حکومت نے آنے والے سیاحتی سیزن سے دیوسائی نیشنل پارک کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کے موسمی ہوٹل یا تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔
گلگت بلتستان کے ڈویژنل فاریسٹ افسر کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات کے احکامات کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والے سیاحتی سیزن سے دیوسائی نیشنل پارک کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کا موسمی ہوٹل اور رہائش گاہ کھولنے یا دیگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہو گی۔
دیوسائی کے میدان سطح سمندر سے انتہائی اونچائی پر گلگت بلتستان میں سکردو، خرمنگ اور استور کے اضلاع کے درمیان واقع ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ فیصلہ دیوسائی نیشنل پارک کے قدرتی ماحول، جنگی حیات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے لیا گیا ہے۔ ’پارک کی حدود کے اندر ہوٹلوں اور تجارتی سرگرمیوں کے باعث ماحولیاتی نقصان، جنگلی حیات میں خلل اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کا خدشہ رہتا ہے۔‘
ڈویژنل فاریسٹ افسر کی جانب سے تمام متعلقہ ہوٹل مالکان اور منتظمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سیزن کے لیے پارک کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کا ہوٹل یا نئی سہولت قائم نہ کریں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس سے قبل رواں برس ستمبر میں پاکستان کی نامور گلوگارہ قرۃ العین بلوچ پر دیوسائی نیشنل پارک میں ریچھ کے حملے کے بعد صوبائی حکومت نے دیوسائی میں رات کے وقت کیمپنگ پر پابندی لگا دی ہے اور یہ پابندی اس سیزن کے لیے ہے۔
Share this content:


