پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی اور صاف و شفاف ہوا کے باعث پہچانا جاتا تھا، آج شدید فضائی آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔
شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 523 تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ فضا میں مضرِ صحت ذرات، بالخصوص PM2.5، محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں اور خون میں شامل ہو کر سانس، دل اور دیگر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
فضائی آلودگی کی بنیادی وجوہات:
شہری و ماحولیاتی ماہرین کے مطابق مظفرآباد میں فضائی آلودگی میں اضافے کی چند بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں:
ایندھن اور لکڑی کا بے دریغ استعمال: سردیوں میں حرارت کے لیے لکڑی، کوئلہ اور کوڑا کرکٹ جلایا جاتا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی یا کمی کے باعث گھروں میں آگ جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں وادی میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔
ٹریفک کا دباؤ: آبادی میں اضافے کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ پرانی اور ناقص گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں آلودگی میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔
تعمیراتی سرگرمیاں: 2005 کے زلزلے کے بعد جاری تعمیرِ نو کے باعث سڑکوں کی توڑ پھوڑ اور تعمیراتی کاموں سے اٹھنے والی گرد و غبار فضا میں شامل ہو کر AQI کو مزید بڑھا رہی ہے۔
جغرافیائی ساخت (Temperature Inversion): مظفرآباد پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ سردیوں میں ٹھنڈی ہوا نیچے بیٹھ جاتی ہے، جس کے باعث دھواں اور گرد و غبار اوپر نہیں جا پاتے اور شہر پر سموگ کی زہریلی تہہ بن جاتی ہے۔
کچرے کو جلانا: شہر میں کچرا ٹھکانے لگانے کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث مختلف مقامات پر کوڑا جلایا جاتا ہے، جس سے انتہائی خطرناک گیسیں پیدا ہوتی ہیں۔
تدارک اور حفاظتی اقدامات:
ماہرین نے شہریوں اور حکومت دونوں پر زور دیا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر:
باہر نکلتے وقت N95 ماسک کا استعمال کریں۔
گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔
صبح و شام کے اوقات میں ورزش یا غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں۔
گھروں میں ایئر پیوریفائر کا استعمال اور زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں۔
حکومتی و سماجی اقدامات:
متبادل ایندھن کی فراہمی کے لیے سستی بجلی یا گیس مہیا کی جائے۔
دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری۔
تعمیراتی مقامات پر پانی کے چھڑکاؤ کو لازمی قرار دیا جائے۔
شہر اور گردونواح میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مظفرآباد جیسا خوبصورت شہر انسانی صحت کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ AQI کا 523 تک پہنچنا ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہے، جسے نظر انداز کرنا مستقبل میں سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
Share this content:


