وادیِ نیلم مسلسل آگ کی لپیٹ میں ،جنگلی حیات اور جنگلات خطرے کی زد میں

مظفرآباد/کاشگل نیوز

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے وادیِ نیلم گزشتہ بیس روز سے مسلسل جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے اثرات اب دارالحکومت مظفرآباد تک پہنچ چکے ہیں۔

جنگلات میں لگی آگ کے باعث فضا میں دھواں پھیل گیا ہے، جس کے نتیجے میں مظفرآباد شہر میں سموگ کی صورتحال برقرار ہے۔ شہریوں کو سانس لینے میں دشواری، آنکھوں میں جلن اور حدِ نگاہ میں کمی کا سامنا ہے۔

آگ کی وجہ سے نہ صرف قیمتی جنگلات تباہ ہو رہے ہیں بلکہ دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی بھی آلودہ ہو کر سیاہی مائل دکھائی دینے لگا ہے۔ فضائی آلودگی اور دھند نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جب کہ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال یہی رہی تو صحتِ عامہ کے مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب جنگلات میں لگنے والی آگ کے باعث نایاب جانور اور پرندے بھی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔

عوامی حلقوں کی جانب سے محکمہ جنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

محکمہ جنگلات کے حالیہ بیان میں آگ لگنے کا ذمہ دار شکاریوں کو قرار دیا گیا، تاہم شہریوں کا سوال ہے کہ اگر شکاری ملوث ہیں تو محکمہ وائلڈ لائف ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں کر رہا؟ جبکہ شکار پر پابندی کے باوجود نگرانی کا نظام مؤثر نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب ریاستی اداروں کی عدم فعالیت کے باعث مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کئی دنوں سے آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود وہ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر حکومتی سطح پر ہنگامی اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلاتی آگ پر فوری قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر وسائل فراہم کیے جائیں، جبکہ غیر فعال محکموں کی جوابدہی یقینی بنائی جائے تاکہ آئندہ اس نوعیت کے سانحات سے بچا جا سکے۔

Share this content: