بلوچستان اور پاکستان بھر میں دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سرگرم ومتحرک آوازماما قدیر بلوچ جو وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) کے وائس چیئرمین ہیں ، طویل علالت کے بعد کوئٹہ کے آریا ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز ان کی وفات کی تصدیق کی گئی ہے ۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق ماما قدیر بلوچ کئی دنوں سے شدید علیل تھے اور آریا اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں وہ آج خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
تنظیم نے انتہائی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم کی میت اس وقت آریا اسپتال میں موجود ہے، جبکہ ان کی تدفین سوراب میں کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ کے وقت اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ماما قدیر بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک توانا آواز سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کی قیادت کی، جس کا مقصد جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کی آواز ایوانِ اقتدار تک پہنچانا تھا۔ اس کے علاوہ وہ دنیا کے طویل ترین احتجاجی کیمپوں میں شمار ہونے والے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ کی طویل عرصے تک قیادت کرتے رہے۔
صحت کی بگڑتی ہوئی حالت کے باعث ماما قدیر بلوچ حالیہ دنوں میں احتجاجی کیمپ میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہے تھے، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد وہ آج وفات پا گئے۔
ریاستی دبائو اور فیملی سمیت جان سے مارنے کی دھمکیوں کے علاوہ متعدد مرتبہ کیمپ کو نقصان پہنچایا گیا مگر وہ ثابت قدمی سے اپنے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے اور انسانی حقوق کی سربلندی کے لئے ڈٹے رہے اور گذشتہ پندرہ سالوں سے زائد لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم کیا گیا اس کا کیمپ تاحال جاری ہے ۔
Share this content:


