اسلام آباد / کاشگل نیوز
پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں اسسٹنٹ کمشنرز (اے سی) اور مجسٹریٹ صاحبان کے پرسنل سیکریٹریز (پی ایس) کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صدر زون اسلام آباد میں تعینات اے سی اور مجسٹریٹس کے پی ایس صاحبان مبینہ طور پر خود کو افسران سمجھتے ہوئے کارروائیاں کرنے لگے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پی ایس صاحبان ازخود شہریوں کو حراست میں لے کر تھانوں میں منتقل کرنے لگے ہیں، جو کہ ان کے دائرہ اختیار سے تجاوز ہے۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ کارروائی کے بعد متعلقہ اے سی یا مجسٹریٹ کو کال یا پیغام کے ذریعے آگاہ کر دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے دوبارہ خلاف ورزی کی تھی اور اسے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق رات گئے مختلف پٹرول ایجنسیوں اور غریب ریڑھی بانوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئیں، جن میں کمزور طبقے کو بالکل بھی رعایت نہیں دی گئی۔ ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ وہ ریڑھی لگا کر اپنے گھر کا خرچ چلاتے تھے، مگر ان کارروائیوں کے بعد ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی ہے۔ شہری کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔
شہریوں اور ذرائع کی جانب سے چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اے سی اور مجسٹریٹ صاحبان کے پی ایس حضرات کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی حقیقت سامنے آ سکے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
Share this content:


